تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 1
یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ﴿1﴾
- يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُاے کپڑوں میں لپٹنے والے (محمد)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے چادر میں لپٹنے والے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ آنحضرت ﷺ کو ایک ایسے لفظ سے مخاطب فرمایا گیا ہے جس سے آپ کی وہ تصویر سامنے آتی ہے جو اس اندرونی کیفیت کی غماز ہے جو سورہ کے زمانۂ نزول میں آپ پر بیشتر طاری رہتی تھی۔
’مُزّمّل‘ دراصل ’متزمل‘ ہے۔ عربیت کے قاعدے کے مطابق ’ت‘ حرف ’ز‘ میں مدغم ہو گئی ہے۔ اسی طرح کا تصرف لفظ ’مدّثّر‘ میں بھی ہوا ہے۔ اس کے معنی، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر چکے ہیں، اپنے اوپر چادر لپیٹے رکھنے والے کے ہیں۔ یہ حالت بالعموم ایسے شخص کی ہوتی ہے جو سامنے کے حالات سے فکرمند اور گردو پیش کے لوگوں کے رویہ سے بددل ہو۔ آنحضرت ﷺ لوگوں کو ایک ایسے عذاب سے ڈرا رہے تھے جو ان کے سروں پر منڈلا رہا تھا لیکن لوگوں کی بے گانگی و بے زاری کا یہ حال تھا کہ بات سننا تو درکنار الٹے منہ نوچنے کو دوڑتے اور آپ کی بے قراری و ہمدردی کو خبط و جنون قرار دیتے۔ ایسے حالات میں آپ کا متفکر و مغموم رہنا ایک امر فطری تھا اور فکر و غم کی حالت میں آدمی کی چادر، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اس کی بہترین غم گسار ہوتی ہے۔ وہ اس میں لپٹ کر جب چاہتا ہے خلق سے منقطع اور خالق سے متصل ہو جاتا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ چادر اہل عرب کے لباس کا ایک نہایت اہم جزو بھی تھی اور آنحضرت ﷺ اپنے ساتھ چادر رکھتے بھی تھے۔
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعثت سے پہلے بھی، جب آپ جستجوئے حقیقت میں سرگرداں تھے، آپ پر اسی طرح کی خلوت گزینی کی حالت طاری رہی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے، جیسا کہ سورۂ ضحٰی میں اشارہ ہے، آپ کو راہ دکھائی۔ پھر یہی کیفیت آپ پر مزید شدت کے ساتھ اس وقت طاری ہوئی جب آپ کو اپنی مریض قوم کی دوا بیزاری اور طبیب دشمنی کا ذاتی تجربہ ہوا۔ اس تجربہ سے آپ پر جو کیفیت طاری ہوئی لفظ ’مُزّمّل‘ اسی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ: بعض مفسرین نے اس خطاب سے یہ مطلب سمجھا ہے کہ نبی ﷺ چادر اوڑھے سوئے پڑے تھے کہ آپ کو وحی کے ذریعہ ہدایت ہوئی کہ اے چادر تان کر سونے والے اٹھ اور نماز پڑھ۔ یہ مطلب اگرچہ اس پہلو سے دلچسپ ہے کہ بعد کی آیات سے بظاہر اس کا جوڑ مل جاتا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ اپنی حیات مبارک کے کسی دور میں بھی چادر تان کر غفلت کی نیند سونے والوں میں سے نہیں تھے۔ آپ ہمیشہ کھٹکے کی نیند سوتے اور دن کی طرح آپ کی شب بھی زیادہ تر ذکر و فکر ہی میں گزرتی۔ قرآن کی کسی آیت سے بھی یہ اشارہ نہیں نکلتا کہ آپ کو کبھی خدا سے غفلت کی بنا پر کوئی تنبیہ فرمائی گئی ہو بلکہ اس کے برعکس آپ کو بار بار اس بات پر نہایت پرمحبت انداز میں عتاب ہوا ہے کہ آپ نے اپنے اوپر اس سے زیادہ بوجھ اٹھا رکھا ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالا ہے۔ البتہ یہ بات قرآن میں جگہ جگہ ملتی ہے کہ دعوت کی راہ میں جب آپ کو مشکلات و مصائب سے سابقہ پڑا ہے اور آپ اس صورت حال سے فکر مند رہنے لگے ہیں تو آپ کے عزم و حوصلہ کو مضبوط اور پریشانی کودور کرنے کے لیے نماز بالخصوص تہجد کی نماز کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں بھی یہی صورت ہے۔