Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 4

  1. اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ﴿4﴾

    1. اَوْ زِدْیا زیادہ کرلیں
    2. عَلَيْهِاس پر، سے
    3. وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَاور ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں قرآن
    4. تَرْتِيْلًاترتیل کے ساتھ
Translation · Tadabbur-e-Quran
یا اس پر کچھ زیادہ کرلے اور قرآن کی تلاوت کو ٹھہر ٹھہر کر
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’اَوْ زِدْ عَلَیْہِ‘۔ رات سے یہاں ظاہر ہے کہ رات کا نصف آخر ہے، جب آدمی کچھ سو چکنے کے بعد اٹھتا ہے۔ اس کی وضاحت آگے ’نَاشِئَۃَ الَّیْلِ‘ کے لفظ سے ہو گئی ہے۔ تہجد کے لیے یہی وقت نبی ﷺ کے عمل سے بھی ثابت ہے اور یہی اصل مقصد کے اعتبار سے سب سے زیادہ بابرکت بھی ہے۔ یہ وقت رات کے نصف کے بقدر بھی ہو سکتا ہے، اس سے کچھ کم بھی ہو سکتا ہے اور اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ شب کے پچھلے پہر میں اٹھنا ایک کٹھن کام ہے، اس میں دیر سویر کے ہو جانے کا امکان ہے، اس وجہ سے وقت کے معاملے میں وسعت رکھی گئی ہے تاکہ زیادہ مشقت کا موجب نہ ہو۔ اگرچہ الفاظ قرآن سے پوری نصف شب کے قیام کا اولیٰ ہونا نکلتا ہے لیکن کمی بیشی کی گنجائش الفاظ میں موجود ہے۔ قرآن کی تلاوت کا طریقہ: ’وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا‘ یہ قرآن کے پڑھنے کا طریقہ بتایا گیا کہ نماز میں اس کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ چنانچہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ قرآن لحن اور لَے سے پڑھتے، آیت آیت پر وقف فرماتے، کبھی کبھی ایک ہی آیت شدت تاثر میں بار بار دہراتے علاوہ ازیں کوئی آیت قہر و غضب کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے غضب سے پناہ مانگتے اور جو آیت رحمت کی ہوتی اس پر ادائے شکر فرماتے۔ بعض آیتیں جن میں سجدہ کا حکم یا اشارہ ہے ان کی تلاوت کے وقت، فوری امتثال امر کے طور پر آپ سجدہ میں بھی گر جاتے۔ تلاوت قرآن کا یہی طریقہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق بھی ہے اور یہی نبی ﷺ سے ماثور و منقول بھی ہے۔ قرآن کے مقصد نزول کے پہلو سے بھی یہی طریقہ نافع ہو سکتا ہے لیکن مسلمانوں میں یہ طریقہ صرف اس وقت تک باقی رہا جب تک وہ قرآن کو فکر و تدبر کی چیز اور زندگی کی رہنما کتاب سمجھتے رہے۔ بعد میں جب قرآن صرف حصول ثواب اور ایصال ثواب کی چیز بن کے رہ گیا تو یہ اس طرح پڑھا جانے لگا جس کا مظاہرہ ہمارے حفاظ کرام تراویح اور شبینوں میں کرتے ہیں۔