تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 5
اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا﴿5﴾
- اِنَّا سَنُلْقِيْبیشک ہم عنقریب ڈال دیں گے
- عَلَيْكَآپ پر
- قَوْلًا ثَقِيْلًاایک کلام بھاری
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم تم پر عنقریب ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’قول ثقیل‘ سے مراد:
یہ اس مقصد عظیم کی طرف اشارہ ہے جس کے لیے قیام لیل کی یہ ہدایت فرمائی گئی۔ ارشاد ہے کہ ہم عنقریب تم پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس بھاری بات کے تحمل کے لیے ایک پیشگی ریاضت اور تیاری کے طور پر آپ کو اس کا حکم ہوا۔ اس بھاری بات سے کیا مراد ہے؟ اس کے جواب میں اہل تاویل سے مختلف اقوال منقول ہیں لیکن ان کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں ہے اس وجہ سے ان کے نقل کرنے میں کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ استاذ امامؒ اس سے اس انذار عام کو مراد لیتے ہیں جس کا حکم اگلی سورہ میں
’یٰٓاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ ہ قُمْ فَاَنْذِرْ‘ (المدثر ۷۴: ۱-۲)
(اے چادر میں لپٹنے والے، اٹھ اور انذار کر)
اور اس کے بعد کی آیات میں دیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہی رائے قرین قیاس ہے۔ اس لیے کہ اسی انذارعام سے بعد میں براء ت، ہجرت اور اعلان جنگ کے وہ مراحل سامنے آئے جو آنحضرت ﷺ کی حیات مبارک کے شدید ترین مراحل ہیں، جن میں آپؐ بھی اور آپؐ کے ساتھ صحابہ بھی ایسے کڑے امتحانوں سے گزرے کہ ان کے تصور سے بھی کلیجہ کانپ اٹھتا ہے۔
اقامت دین کی جدوجہد کی امتیازی خصوصیت: اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کو قیام لیل کا حکم اس جہاد عظیم کی تیاری کے لیے دیا گیا جس سے آگے آپؐ کو آپؐ کے صحابہؓ کو اقامت دین کی راہ میں سابقہ پیش آنے والا تھا۔ اقامت دین کی جدوجہد کی یہی وہ امتیازی خصوصیت ہے جو اس کو دوسری تمام تحریفات سے ممتاز کرتی ہے۔ اس کے لیے دوسرے وسائل و ذرائع کے فراہم ہونے سے پہلے صحیح معرفت رب، مستحکم ایمان، غیر متزلزل شب کی نماز ہے بشرطیکہ وہ اس طرح ادا کی جائے جس طرح اس کے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی چٹان پر اقامت دین کی جدوجہد کی بنیاد ہے۔ اس بنیاد کے بغیر اگر دین کی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ کھڑی ہونے سے پہلے ہی زمین بوس ہو جائے گی۔