Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 1

  1. یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ﴿1﴾

    1. يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُاے کپڑے میں لپٹے ہوئے (محمد)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے چادر لپیٹے رکھنے والے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’مزّمّل‘ اور ’مدّثّر‘ کے خطاب کی بلاغت: ’مُدَّثّر‘ اور ’مُزّمّل‘ دونوں کے معنی جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ایک ہی ہیں۔ ’مُدَّثّر‘ ’دِثَارٌ‘ سے ہے جو اس چادر کے لیے آتا ہے جو سونے والا اپنے اوپر لے لیا کرتا ہے۔ چادر لپیٹے رکھنا، جیسا کہ ہم نے سابق سورہ میں واضح کیا، آدمی کی فکر مندی کی ایک علامت ہے۔ نبی ﷺ کو ابتدائے بعثت میں جو مشاہدات و تجربات ہوئے اول تو وہ خود ہی گراں بار کرنے والے تھے پھر جب آپ نے ان کا اظہار اپنے خاندان والوں کے سامنے کیا اور انھوں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کیا تو آپ کی فکرمندی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ایسی حالت میں آپ زیادہ تر چادر لپیٹے ہوئے، لوگوں سے الگ تھلگ رہتے جس طرح ایک فکرمند انسان رہتا ہے۔ آپ کی اسی فکر و پریشانی کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت پیار سے آپ کو ’مزّمّل‘ اور ’مدّثّر‘ سے خطاب فرمایا تاکہ خطاب ہی سے آپ کو تسلی ہو جائے کہ رب کریم آپ کے حال سے اچھی طرح واقف ہے اور جب اس نے اس شفقت سے مخاطب فرمایا ہے تو وہ آپ کی پریشانی دور بھی فرمائے گا۔ چنانچہ سابق سورہ میں آپ کو ’مزّمّل‘ سے خطاب کر کے قیام لیل کی تاکید فرمائی گئی جس میں اس فکر و پریشانی کا علاج بھی تھا اور اس مہم کے لیے تیاری بھی جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔