تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 2
قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ﴿2﴾
- قُمْکھڑے ہوجاؤ
- فَاَنْذِرْپھر ڈراؤ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اٹھ اور لوگوں کو ڈرا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انذار عام کے لیے کھڑے ہونے کا حکم:
’قُمْ فَاَنْذِرْ‘۔ یہ اس مہم کا بیان ہے جس کی طرف پچھلی سورہ میں ’اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا‘ (۵) (ہم تم پر آگے ایک بھاری ذمہ داری ڈالنے والے ہیں) کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ یعنی کمر بستہ ہو کر اٹھو اور پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ اپنی قوم کو انذار کرو۔ مخالفت و مزاحمت، حالات کی نامساعدت اور ماحول کی اجنبیت کی پروا نہ کرو۔ جب تم ہمت کر کے اٹھ کھڑے ہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری راہ آسان کرے گا اور غیب سے تمہاری تائید کے اسباب فراہم ہوں گے۔ سابق سورہ میں یہ اشارہ ہم کر چکے ہیں کہ ’اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا‘ (۵) سے اسی انذار عام کے حکم کی طرف اشارہ ہے جو یہاں دیا گیا ہے۔ عام طور پر لوگوں نے ’قَوْلٌ ثَقِیْلٌ‘ سے خود وحی کو مراد لیا ہے لیکن وحی تو اس سے پہلے بھی نازل ہو چکی تھی تو یہ کہنے کے کیا معنی کہ ’ہم عنقریب تم پر ایک قول ثقیل نازل کریں گے!‘ البتہ انذار کا یہ حکم آپ کے لیے بلاشبہ ایک بہت ہی بھاری حکم تھا۔ مکہ اور طائف کے سرداروں کے کانوں میں توحید کی اذان دینا اور وہ بھی اس دعوے کے ساتھ کہ آپ اللہ کے رسول ہو کر آئے ہیں، اگرا نھوں نے آپ کے انذار کی تکذیب کی تو اس کے عذاب کی زد میں آ جائیں گے کوئی سہل کام نہیں تھا۔ اس بھاری ذمہ داری سے آپ کا ہراس محسوس کرنا ایک امر فطری تھا۔ چنانچہ ابتداءً آپ نے اپنے کام کو اپنے خاص خاندان والوں ہی تک محدود رکھا اور ان پر بھی نہایت احتیاط کے ساتھ صرف اپنے بعض مشاہدات و تجربات کا اظہار فرما کر ان کا ردعمل معلوم کرنا چاہا جو نہایت مخالفانہ صورت میں سامنے آیا۔ چنانچہ اس دور میں آپ پر نہایت شدید فکرمندی کی حالت طاری رہی۔ جس کی تصویر ’مزّمّل‘ اور ’مدّثّر‘ کے الفاظ سے ہمارے سامنے آتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے آپ کو مبعوث فرمایا تھا وہ ہونا تھا چنانچہ پہلے (سورۂ مزمل میں) آپ کو اس صورت حال کے مقابلہ کے لیے تیاری کی ہدایت ہوئی پھر اس سورہ میں کمر باندھ کر انذار عام کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا حکم ہوا۔