Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 17

  1. سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ﴿17﴾

    1. سَاُرْهِقُهٗاب اسے چڑھواؤنگا
    2. صَعُوْدًابڑی چڑھائی
Translation · Tadabbur-e-Quran
میں اس کو عنقریب ایک سخت چڑھائی چڑھائوں گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کی سزا: ’اِرْہَاقٌ‘ کے معنی کسی مشقت میں ڈالنے کے ہیں اور ’صَعُوْدٌ‘ کسی ایسی چوٹی یا گھاٹی کو کہتے ہیں جس کو عبور کرنا نہایت دشوار ہو۔ یہ سزا بیان ہوئی ہے اس انعام کی ناقدری کی جس کی طرف اوپر ’وَمَہَّدۡتُّ لَہٗ تَمْہِیْدًا‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ نعمتیں پا کر چونکہ وہ انہی کے پرستار بن کر رہ گئے اور اصل منعم کو بھول کر اپنے نفس ہی کی بندگی میں اس طرح لگ گئے کہ اس کی کسی خواہش کا بھی مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے اس وجہ سے ان کو آخرت میں ایک نہایت پرمشقت چڑھائی چڑھنی پڑے گی۔ نیکی اور بدی کے مزاج کا فرق: یہاں نیکی اور بدی کی یہ فطرت پیش نظر رہے کہ ان دونوں کا امتیاز تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیا ہے لیکن ساتھ ہی اس امتحان میں بھی اس کو ڈال دیا کہ بدی کی لذتیں تو عاجل رکھی ہیں اور تلخیاں اس کی آخرت میں سامنے آئیں گی۔ برعکس اس کے نیکی کی مشکلیں نقد ہیں اور نفع اس کا نسیہ ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان نیکی کی راہ اختیار کرتا ہے تو اس میں قدم قدم پر اس کو نفس کی مزاحمت کے سبب سے چڑھائیاں چڑھنی اور گھاٹیاں پار کرنی پڑتی ہیں اور بدی کی راہ اختیار کرے تو اس کی لذت تو اس کو نقد نقد ملتی ہے اور اس کے انجام بد کا معاملہ اس کے نزدیک موہوم ہوتا ہے۔ اس کشش کے سبب سے اکثریت اسی راہ کو اختیار کر لیتی ہے۔ نیکی کی راہ اختیار کرنے کا حوصلہ صرف وہی کرتے ہیں جن کے اندر صبر اور عزیمت ہو اور اس وصف کو پیدا کرنے کے لیے آدمی کو ریاضت کرنی پڑتی ہے۔ اس حقیقت کی طرف حضرت مسیح علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا ہے کہ ’بدی کی راہ فراخ اور اس پر چلنے والے بہت ہیں اور نیکی کی راہ تنگ اور اس پر چلنے والے تھوڑے ہیں‘۔ سورۂ بلد میں اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے: وَہَدَیْْنَاہُ النَّجْدَیْْنِ ۵ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ ۵ وَمَا أَدْرَاکَ مَا الْعَقَبَۃُ ۵ فَکُّ رَقَبَۃٍ ۵ أَوْ إِطْعَامٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ ۵ یَتِیْماً ذَا مَقْرَبَۃٍ ۵ أَوْ مِسْکِیْناً ذَا مَتْرَبَۃٍ ۵ ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ (البلد ۹۰: ۱۰-۱۷) ’’اور ہم نے انسان کو نیکی اور بدی دونوں کی راہیں سمجھا دیں۔ پس اس نے گھاٹی پار کرنے کا حوصلہ نہ کیا اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے! غلام کی گردن چھڑانا یا بھوک کے زمانے میں کسی قرابت مند یتیم یا کسی خاک نشین مسکین کو کھلانا۔ مزید برآں یہ کہ وہ بنے ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر اور مرحمت کی تلقین کی۔‘‘ قرآن نے آخرت کی فوز و فلاح کا حق دار صرف انہی کو ٹھہرایا ہے جو دنیا میں نیکی کی راہ کے عقبات کو پار کرنے کا حوصلہ کریں گے۔ جو یہاں ان کو پار کرنے کی ہمت نہیں کریں گے ان کو دوزخ کے عقبات سے سابقہ پیش آئے گا جن کو پار کرنے پر وہ مجبور کیے جائیں گے لیکن وہ ان کو پار نہ کر سکیں گے۔