تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 30
عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ﴿30﴾
- عَلَيْهَااس پر ہیں
- تِسْعَةَ عَشَرَانیس (داروغہ)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس پر انیس فرشتے مقرر ہوں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت متشابہات سے متعلق ایک سوال کا جواب:
فرمایا کہ اس کے اوپر انیس مامور ہوں گے۔ یہاں انیس کا معدود مذکور نہیں ہے لیکن آگے کی آیت میں اشارہ موجود ہے کہ یہ فرشتے ہوں گے۔ یہاں ان کے ذکر میں ابہام سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان کی مزاجی خصوصیات، ان کی شکلیں اور ان کی قوتیں بالکل اس ڈیوٹی سے مناسبت رکھنے والی ہوں گی جس پر وہ مامور ہوں گے۔ مجرم ان کو دیکھ کر ہی یہ اندازہ کر لیں گے کہ یہ کسی پر نہ رتی برابر ترس کھانے والے ہیں اور نہ ان کے چنگل سے چھوٹ سکنے کا کوئی امکان ہے۔
یہاں ممکن ہے کسی کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ دوزخ پر مامور فرشتوں کی تعداد انیس ہونے میں کیا حکمت ہے اور بالفرض ان کی تعداد انیس ہی ہے تو اس اہتمام سے اس کے ذکر کی کیا ضرورت تھی؟ اس سوال کا جواب آگے والی آیت میں خود قرآن نے دیا ہے لیکن اس جواب سے پہلے ایک ضروری تمہید ذہن نشین کر لیجیے۔
وہ یہ کہ جہاں تک آخرت کا تعلق ہے اس کے دلائل عقل و فطرت اور آفاق و انفس میں موجود ہیں اور قرآن نے پوری وضاحت سے وہ بیان کر دیے ہیں۔ رہیں جنت و دوزخ کی تفصیلات تو ان کی نوعیت متشابہات کی ہے جن کی اصل حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ اس نے ان کو تمثیلات و تشبیہات کے پیرایہ میں سمجھایا ہے جن سے ہم فی الجملہ ان کا تصور تو کر سکتے ہیں لیکن ان کی اصل حقیقت کا ادراک نہیں کر سکتے۔ اگر آدمی ان کی اصل حقیقت جاننے کے درپے ہو تو وہ فتنہ میں پڑ جاتا ہے اور اس سے کچھ کرنا تو درکنار وہ اس اصل حقیقت کا بھی منکر بن جاتا ہے جس کی بنیاد عقل و فطرت کے قطعی دلائل پر ہوتی ہے۔ اس طرح کے معاملات میں ایک عاقل کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے اس کو مانے اور یہ ایمان رکھے کہ ان کی اصل حقیقت اس دن واضح ہو گی جس دن یہ سامنے آئیں گی۔ اس نکتہ کی وضاحت قرآن نے سورۂ آل عمران میں یوں کی ہے:
ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِھٰتٌ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِہٖ وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلَّا اللّٰہُ وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا.(آل عمران ۳: ۷)
(وہی خدا ہے جس نے تم پر کتاب اتاری ہے جس میں (عقل و فطرت کے دلائل پر مبنی) محکم آیات ہیں جن کو اصل کتاب کی حیثیت حاصل ہے اور کچھ متشابہ آیات بھی ہیں (جن میں کوئی بات تمثیلی رنگ میں سمجھائی گئی ہے) تو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ جوئی اور اس کی اصل حقیقت کی دریافت کے زعم میں اس کی متشابہات ہی کے درپے ہوتے ہیں حالانکہ اس کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ رہے وہ لوگ جن کے قدم علم میں خوب جمے ہوئے ہیں ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ متشابہات بھی محکمات ہی کی طرح ہمارے رب ہی کے پاس سے نازل ہوئی ہیں۔)
اس قسم کے کج رو ذہن کے لوگ ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ قریش کے لیڈروں اور اہل کتاب کے مفسدین میں بھی ایسے لوگ موجود تھے اس وجہ سے قرآن نے جب انیس فرشتوں کا ذکر کیا تو برسر موقع تنبیہ بھی فرما دی (جو آگے آ رہی ہے) کہ اگرچہ فتنہ پسند طبیعتیں اس کو فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنائیں گی لیکن اللہ تعالیٰ اس قسم کے حقائق اس لیے بیان فرماتا ہے کہ اس سے ان لوگوں کے علم میں اضافہ ہو جو علم کے طالب ہیں، اور جن کے اندر فتنہ جوئی کا ذوق ہے اور ان کا کھوٹ ابھر کر سامنے آئے۔