Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 31

  1. وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ع﴿31﴾

    1. وَمَااور نہیں
    2. جَعَلْنَآہم نے بنائے
    3. اَصْحٰبَ النَّارِدوزخ کے داروغہ
    4. اِلَّامگر (صرف)
    5. مَلٰٓئِكَةً ۠فرشتے
    6. وَّمَااور نہیں
    7. جَعَلْنَاہم نے رکھی
    8. عِدَّتَهُمْان کی تعداد
    9. اِلَّامگر (صرف)
    10. فِتْنَةًآزمائش کو
    11. لِّلَّذِيْنَان لوگوں کیلئے جو
    12. كَفَرُوْا ۙکافر ہوئے
    13. لِيَسْتَيْقِنَتاکہ وہ یقین کرلیں
    14. الَّذِيْنَوہ لوگ جنہیں
    15. اُوْتُوا الْكِتٰبَکتاب دی گئی (اہل کتاب)
    16. وَيَزْدَادَاور زیادہ ہو
    17. الَّذِيْنَجو لوگ
    18. اٰمَنُوْٓاایمان لائے
    19. اِيْمَانًاایمان
    20. وَّلَا يَرْتَابَاور شک نہ کریں
    21. الَّذِيْنَوہ لوگ جنہیں
    22. اُوْتُوا الْكِتٰبَکتاب دی گئی
    23. وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۙاور مومن (جمع)
    24. وَلِيَقُوْلَاور تاکہ وہ کہیں
    25. الَّذِيْنَوہ لوگ
    26. فِيْ قُلُوْبِهِمْجن کے دلوں میں
    27. مَّرَضٌروگ
    28. وَّالْكٰفِرُوْنَاور کافر (جمع)
    29. مَاذَآکیا
    30. اَرَادَ اللّٰهُارادہ کیا اللہ نے
    31. بِهٰذَا مَثَلًا ۭاس مثال سے
    32. كَذٰلِكَاسی طرح
    33. يُضِلُّ اللّٰهُاللہ گمراہ کرتا ہے
    34. مَنْ يَّشَآءُجسے وہ چاہتا ہے
    35. وَيَهْدِيْاور ہدایت دیتا ہے
    36. مَنْ يَّشَآءُ ۭجسے وہ چاہتا ہے
    37. وَمَا يَعْلَمُاور نہیں جانتا
    38. جُنُوْدَلشکروں کو
    39. رَبِّكَتیرے رب کے
    40. اِلَّا هُوَ ۭسوائے وہ (خود)
    41. وَمَا ھِيَاور نہیں یہ
    42. اِلَّا ذِكْرٰىمگر نصیحت
    43. لِلْبَشَرِآدمی کیلئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے دوزخ پر نگراں تو فرشتوں ہی کو بنایا ہے اور ہم نے ان کی یہ تعداد نہیں بیان کی مگر اس لیے کہ یہ آزمائش بنے اور لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر کیا تاکہ یقین حاصل کریں وہ جن کو کتاب عطا ہوئی اور اہل ایمان اس سے اپنے ایمان کو بڑھائیں اور اہل کتاب اور اہل ایمان شک میں نہ پڑیں اور تاکہ جن کے دلوں میں روگ ہے وہ اور کفر کرنے والے کہیں کہ بھلا اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ! اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور راہ یاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو صرف وہی جانتا ہے۔ اور یہ ماجر امحص انسانوں کی یاد دہانی کے لئے ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
متشابہات کے ذکر کی حکمت: یہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، برسر موقع ایک تنبیہ ہے۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ یہ آیت بہت بعد میں مدینہ کے دور میں نازل ہوئی سابق آیت سے حرف عطف کے ساتھ اس کا اتصال قرینہ ہے کہ یہ ساتھ ہی نازل ہوئی ہے۔ بعد میں نازل ہونے والی آیتیں، جو اپنے سابق حکم کے ساتھ ملائی گئی ہیں، ان کا انفصال ہر جگہ نمایاں ہے۔ سورۂ مزمل میں ’إِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ.....‘ (۲۰) والی آیت مدنی دور کی آیت ہے۔ چنانچہ سابق آیت سے اس کا انفصال نمایاں ہے۔ اس کو حرف ربط کے ذریعہ سے مربوط نہیں کیا لیکن یہاں یہ حرف عطف کے ذریعہ سے مربوط ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ آیت بھی ساتھ ہی نازل ہوئی اور مقصود اس سے نبی ﷺ کو مفسدین کے ذہن سے فی الجملہ آگاہ کر دینا ہے کہ جب تمہاری زبان سے وہ اس کی باتیں سنیں گے تو طرح طرح سے ان کا مذاق اڑانے کی کوشش کریں گے لیکن تم ان کی یاوہ گوئیوں کی پروا نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ یہ باتیں اس لیے بیان فرماتا ہے کہ اس سے اہل ایمان کے علم میں اضافہ ہو اور جن کے اندر فتنہ جوئی کی بیماری ہے ان کا کھوٹ ابھر کر سامنے آ جائے۔ ’وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلَّا مَلَائِکَۃً وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ إِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنے کارخانۂ قدرت کے تمام شعبوں پر فرشتوں ہی کو مامور فرمایا، جنوں اور شیاطین کو نہیں مامور کیا، اسی طرح دوزخ پر بھی اس نے فرشتوں ہی کو مامور کیا۔ کسی دوسری مخلوق کو نہیں کیا ہے۔ یہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام اس کی پیدا کی ہوئی پاکیزہ مخلوق ملائکہ ہی کے ذریعہ سے انجام پاتا ہے تاکہ کسی گوشے میں سرمو کوئی بات اس کے منشا کے خلاف نہ ہو۔ چنانچہ دوزخ کے جیل خانہ پر بھی اس نے فرشتوں ہی کو مامور فرمایا ہے۔ اس فقرے میں نہایت لطیف طریقہ سے ان فتنہ پردازوں کا جواب بھی دے دیا جو بات بنا سکتے تھے کہ یہ لو، جب مجرموں کے ساتھ فرشتے بھی دوزخ میں ہوں گے تو پھر کیا ڈر ہے، جس طرح وہ گزاریں گے ہم بھی گزار لیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح کی دل لگی کی باتیں وہ کرنی چاہیں تو کر لیں لیکن یاد رکھیں کہ جیل پر مامور افسروں اور جیل کے قیدیوں کے درمیان آسمان و زمین کا فرق ہے۔ اس کا پتہ ان کو اس وقت چلے گا جب دوزخ کے جیل اور اس پر مامور فرشتوں سے سابقہ پیش آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر شعبہ میں امتحان رکھے ہیں: ’وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ إِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘۔ یہ ان فرشتوں کی تعداد کے ذکر کی حکمت کی طرف اشارہ فرمایا کہ اس کے اظہار سے مقصود یہ ہے کہ ان کی تعداد کا مسئلہ قیامت کے منکروں کے لیے ایک آزمائش ہے اور اس کی آڑ لے کر وہ جو کچھ اس کے خلاف کہنا چاہیں کہہ لیں۔ یہ امر واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر گوشے میں امتحان رکھے ہیں جن کے ذریعہ سے بروں کی مخفی برائیاں اور اچھوں کی مستور نیکیاں ظہور میں آتی ہیں۔ یہ امتحان نہ ہوں تو انسان کی مخفی صلاحیتیں اجاگر ہو سکتیں نہ نیک اور بد کے درمیان امتیاز ہو سکے۔ چنانچہ جنت اور دوزخ کی تفصیلات کے ذیل میں بھی اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی حقیقتوں کا ذکر فرمایا جو منکروں کے لیے فتنہ بن گئیں۔ مثلاً نبی ﷺ نے معراج کے جو مشاہدات بیان فرمائے یا دوزخ کے اندر قرآن نے زقّوم کا جو ذکر کیا تو مخالفین نے ان کو موضوع بحث بنا کر طرح طرح سے پیغمبر ﷺ کا بھی مذاق اڑایا اور جنت و دوزخ کا بھی۔ سورۂ بنی اسرائیل میں اس کی طرف یوں اشارہ ہے: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤۡیَا الَّتِیْ أَرَیْْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوۡنَۃَ فِی القُرْآنِ (بنی اسرائیل ۱۷: ۶۰) ’’اور ہم نے جو رؤیا تم کو دکھائی تو اسی لیے دکھائی کہ وہ مخالفوں کے لیے آزمائش بنے۔ اسی طرح اس درخت کو بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔‘‘ شیاطین جن و انس کو حق کے خلاف فتنے برپا کرنے کے اس طرح کے مواقع اللہ تعالیٰ جو دیتا ہے اس کی حکمت بھی قرآن میں جگہ جگہ واضح فرما دی گئی ہے۔ سورۂ حج میں فرمایا ہے: لِیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْْطَانُ فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَالْقَاسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍ ۵ وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ أُوۡتُوا الْعِلْمَ أَنَّہُ الْحَقُّ مِن رَّبِّکَ (الحج ۲۲: ۵۳-۵۴) ’’اللہ یہ موقع اس لیے دیتا ہے کہ شیاطین جو کچھ حق کے خلاف کہیں وہ ان لوگوں کے لیے فتنہ بنے جن کے دلوں میں روگ ہے یا جن کے دل سخت ہو چکے ہیں اور یہ ظالم بہت دور کے جھگڑے میں پڑ چکے ہیں اور تاکہ وہ لوگ جن کو علم عطا ہوا ہے جان لیں کہ یہ جو قرآن نے بتایا ہے یہی حق ہے۔‘‘ سورۂ حج کی اس آیت کے تحت اس مسئلہ پر ہم تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں۔ وضاحت مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔ اسی طرح یہاں بھی جب دوزخ کے فرشتوں کا ذکر انیس ۱۹ کی تحدید کے ساتھ فرمایا تو یہ آگاہی بھی دے دی کہ اگرچہ اشرار اس کو فتنہ کا ذریعہ بنائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق یہ امتحان ضروری ہے۔ اسی سے ان لوگوں کا کھوٹ ابھر کر سامنے آئے گا جن کے دلوں کے اندر خرابی ہے اور اسی سے ان لوگوں کے علم اور ایمان میں پختگی پیدا ہو گی جن کے اندر حق کی طلب اور حقیقت کی جستجو ہے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ متمردین قریش نے سنا کہ دوزخ پر کل انیس ہی فرشتے مامور ہوں گے تو انھوں نے مذاق اڑایا کہ اگر کل اتنے ہی ہوں گے تو پھر کوئی اندیشہ کی بات نہیں ہے ہم ان سے آسانی سے نمٹ لیں گے۔ بعض نے شیخی بگھاری کہ ان میں سے اتنے کے لیے تو یہ بندہ تنہا ہی کافی ہے، باقی رہے اتنے تو ان سے اے فلاں! تم نمٹ لینا۔ ’لِیَسْتَیْْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَیَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوۡا إِیْمَانًا‘۔ ’ل‘ یہاں نتیجہ کے بیان کے لیے ہے۔ یعنی حق و باطل کی اس کشمکش کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ جو سچے اہل کتاب ہیں اس سے ان کا یقین محکم ہو گا اور جو ایمان لائے ہیں ان کے ایمان میں افزونی ہو گی۔ ’اُوْتُوا الْکِتٰبَ‘ سے یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اچھے اہل کتاب مراد ہیں۔ اہل کتاب میں سے جو اپنی کتابوں پر واقعی ایمان رکھتے تھے ان کے لیے قرآن کی اس طرح کی باتوں کا مذاق اڑانے کی گنجائش نہیں تھی۔ خود ان کے صحیفوں میں اس طرح کی باتیں موجود تھیں۔ قرآن سے ان کو تائید مل گئی جس سے ان کا یقین محکم ہوا۔ یہی اہل کتاب ہیں جو بعد میں قرآن پر ایمان لائے۔ تقلیدی ایمان ضعیف ہوتا ہے: اہل ایمان کے ایمان میں افزونی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ اس کے خلاف جو کچھ کہا جا سکتا ہے وہ ان کے آگے آ جاتا ہے اور وہ اچھی طرح پرکھ لیتے ہیں کہ مخالفین کی نکتہ چینیاں بالکل بے وزن ہیں۔ ضد کی صحیح شناخت اس کے ضد ہی سے ہوتی ہے۔ دونوں پہلوؤں کے سامنے آ جانے کے بعد آدمی جس پہلو کو اختیار کرتا ہے علی وجہ البصیرت اختیار کرتا ہے۔ اگر وہ ایمان کے پہلو کو اختیار کرتا ہے تو اس کا ایمان تقلیدی نہیں ہوتا بلکہ سمجھ بوجھ کر ہوتا ہے۔ اس کو وہ پورے جزم کے ساتھ اختیار کرتا ہے اور ہر آزمائش اس کے ایمان میں اضافہ کرتی ہے۔ جن کا ایمان محض تقلیدی ہوتا ہے اس کی جڑ مضبوط نہیں ہوتی اس وجہ سے معمولی باد مخالف بھی بسا اوقات اس کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ ’وَلَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ أُوۡتُوا الْکِتَابَ وَالْمُؤْمِنُوۡنَ‘۔ وہی بات منفی پہلو سے فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امتحان میں اس لیے ڈالتا ہے کہ جو سچے اہل کتاب ہیں وہ اور اہل ایمان شک کے حملوں سے محفوظ ہو جائیں۔ گویا یہ شک کے حملوں سے محفوظ کر دینے کے لیے ایک پیشگی احتیاطی تدبیر ہے۔ اچھے اہل کتاب کی تعریف: یہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ اہل ایمان کے پہلو بہ پہلو اچھے اہل کتاب کا بھی ذکر آیا ہے حالانکہ یہ سورہ، جیسا کہ اوپر اشارہ گزرا، ابتدائی مکی سورتوں میں سے ہے جب کہ اہل کتاب سے براہ راست سابقہ پیش نہیں آیا تھا چنانچہ جن لوگوں نے اس آیت کو مدنی قرار دیا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی انھوں نے بتائی ہے، لیکن ہمارے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ اچھے اہل کتاب مسلمانوں ہی کے حکم میں تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شروع ہی سے ان کا ذکر اہل ایمان کے ہراول دستہ کی حیثیت سے کیا تاکہ پہلے ہی سے ان پر واضح ہو جائے کہ اس نئی بعثت کے دور میں انھیں کیا رول ادا کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کی نظروں میں ان کی کیا جگہ ہے، آگے انھیں کن حالات سے گزرنا ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو محکم رکھنے کے لیے کیا تدبیریں اختیار فرما رہا ہے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے انھیں کس طرح بیدار رہنا چاہیے۔ حاسد یہود کا رویہ: ’وَلِیَقُوۡلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَالْکَافِرُوۡنَ مَاذَا أَرَادَ اللہُ بِہٰذَا مَثَلاً‘؛ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ حاسد یہود اور کٹر کفار پر ان متشابہات کا کیا اثر پڑے گا۔ ’اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوۡبِہِمْ مَّرَضٌ‘ سے عام طور پر لوگوں نے منافقین کو مراد لیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ لفظ ’مَرَضٌ‘ قرآن میں نفاق ہی کے لیے آیا ہے لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ اس کتاب میں جگہ جگہ ہم وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ حسد اور کینہ کی تعبیر کے لیے بھی آیا ہے اور ایسے مواقع میں اس سے مراد یہود ہوا کرتے ہیں اس لیے کہ ان کو بنی اسمٰعیل پر بھی حسد تھا اور نبی ﷺ پر بھی اس حسد کی تفصیل سورۂ بقرہ میں گزر چکی ہے۔ اوپر اچھے اہل کتاب کا ذکر ہو چکا ہے۔ اب ان کے مقابل میں حاسد یہود کے رویہ کا ذکر آ رہا ہے اور ساتھ ہی ’اَلْکَافِرُوْنَ‘ کے لفظ سے کفار قریش کی طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ یہ دونوں گروہ ان متشابہات کے بارے میں ایک ہی روش اختیار کریں گے۔ وہ کہیں گے کہ ’مَاذَا أَرَادَ اللہُ بِہٰذَا مَثَلاً‘۔ ان کے اس قول کی وضاحت سورۂ بقرہ کی آیت ۲۶ کے تحت ہم کر چکے ہیں کہ اس طرح کی باتیں سن کر وہ ناک بھوں چڑھائیں گے اور متکبرانہ انداز میں کہیں گے کہ بھلا اس طرح کی تمثیلات سے اللہ کی مراد کیا ہے! یعنی یہ باتیں لایعنی ہیں اور اللہ تعالیٰ لا یعنی باتیں نہیں کرتا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس طرح کی باتیں منسوب کر رہا ہے (العیاذ باللہ) وہ بھی لایعنی اور اس کا دعوائے رسالت محض افتراء ہے۔ ’کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللہُ مَنۡ یَشَاءُ وَیَہْدِیْ مَنۡ یَشَاءُ‘۔ یعنی اس طرح کی آزمائشوں اور امتحانوں میں ڈال کر اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت نصیب کرتا ہے۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جس کی وضاحت جگہ جگہ ہم کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہر مشیت اس کی حکمت کے تحت ہے۔ جن کو وہ گمراہی کا مستحق پاتا ہے ان کو گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی سنت کے تحت ہدایت کے سزاوار ہوتے ہیں ان کو ہدایت بخشتا ہے۔ بالکل اسی سیاق و سباق میں سورۂ بقرہ میں یوں فرمایا گیا ہے: فَأَمَّا الَّذِیْنَ آمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ أَنَّہُ الْحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمْ وَأَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَاذَا أَرَادَ اللہُ بِہٰذَا مَثَلاً یُضِلُّ بِہِ کَثِیْرًا وَیَہْدِیْ بِہِ کَثِیْرًا وَمَا یُضِلُّ بِہِ إِلاَّ الْفَاسِقِیْنَ (البقرہ ۲: ۲۶) ’’جو ایمان لائے وہ جانتے ہیں کہ یہی حق ہے ان کے رب کی جانب سے۔ رہے وہ جنھوں نے کفر کیا تو وہ کہیں گے کہ بھلا اس طرح کی تمثیل سے اللہ کی کیا مراد ہو سکتی ہے! اللہ اس سے بہتوں کو گمراہ کرتا اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے اور وہ اس سے گمراہ انہی کو کرتا ہے جو نافرمان ہوتے ہیں۔‘‘ نکتہ چینوں کے غرور ہمہ دانی پر ضرب: ’وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ إِلَّا ہُوَ‘۔ یہ ان نکتہ چینوں کے غرور ہمہ دانی پر ضرب لگائی ہے کہ وہ اس زعم میں نہ رہیں کہ اس کائنات کے تمام بھیدوں کو وہ جانتے ہیں یا ان کے پاس اتنا علم اور اتنی عقل ہے کہ ان کو جان سکتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ زعم بالکل باطل ہے۔ تیرے رب کی فوجوں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہی جانتا ہے کہ اس کی افواج کتنی ہیں، اس میں کس یونٹ کی صلاحیتیں کیا ہیں، کون سی رجمنٹ کن اسلحہ سے لیس ہے اور کون اور کتنے افسر کس محاذ پر مامور ہیں۔ نہ کوئی ان ساری باتوں کو جانتا ہے اور نہ جان سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رموز سلطنت میں سے جن بھیدوں سے آگاہ کر دے انسان کو چاہیے کہ ان کی قدر کرے اور ان کو اپنے خزانۂ علم میں بیش بہا اضافہ سمجھے۔ اس گھمنڈ میں نہ مبتلا ہو کہ خدا کی کائنات اتنی ہی ہے جتنی اس نے دیکھی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس دور کے دانش فروشوں نے بھی قرآن کی جن باتوں پر شبہات وارد کیے ہیں یا جن کی من مانی تاویلیں کرنے کی کوشش کی ہے اسی غرور ہمہ دانی میں مبتلا ہو کر کی ہے۔ جو باتیں ان کو اپنی محدود عقل کی گرفت سے باہر محسوس ہوئیں ان کا یا تو انکار کر دیا، اگر انکار کی جرأت ہوئی، ورنہ ان کی کوئی ایسی تاویل کرنے کی کوشش کی جو انکار سے بھی کئی قدم آگے ہوئی۔ ’وَمَا ہِیَ إِلَّا ذِکْرٰی لِلْبَشَرِ‘۔ یہ مقصد بتایا ہے قیامت کے احوال پر مشتمل ان آیات کا۔ فرمایا کہ یہ انذار کرنے والی آیتیں ہم نے نکتہ چینی کے لیے نہیں نازل کی ہیں بلکہ لوگوں کی تذکیر و تنبیہ کے لیے نازل کی ہیں تاکہ جو اس ابدی عذاب سے بچنا چاہتے ہیں وہ اس کے ظہور سے پہلے پہلے تیاری کر لیں۔ اللہ نے یاددہانی سنا کر خطرے سے آگاہ کر دیا۔ اس سے فائدہ اٹھانا لوگوں کا اپنا کام ہے۔ جو فائدہ نہیں اٹھائیں گے ان کے پاس خدا کے آگے کوئی عذر نہیں ہو گا۔ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ نیک و بد سے لوگوں کو آگاہ کردیتا ہے۔ بالجبر ہدایت کی راہ پر چلا دینا اس کی سنت کے خلاف ہے۔ ’ہِیَ‘ کا مرجع عام مفسرین نے ’سقر‘ کو سمجھا ہے لیکن میرے نزدیک اس کا مرجع وہ آیات منذرات ہیں جن میں’سقر‘ کے احوال سنائے گئے ہیں۔ اس لیے کہ ’ذِکْرٰی‘ یعنی یاددہانی ہونے کی حیثیت درحقیقت ان آیات ہی کو حاصل ہے نہ کہ ’سقر‘ کو۔