Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 33

  1. وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ﴿33﴾

    1. وَالَّيْلِاور رات
    2. اِذْ اَدْبَرَجب وہ پیٹھ پھیرے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور رات جبکہ وہ پیٹھ پھیر لیتی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’وَاللَّیْْلِ إِذْ أَدْبَرَ ۵ وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ‘۔ چاند کے بعد یہ رات کی قسم کھائی ہے جب کہ وہ پیچھے مڑتی ہے اور صبح کی قسم کھائی ہے جب کہ وہ ہویدا ہوتی ہے، یعنی جس طرح رات کی تاریکی میں صبح کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا لیکن وقت آتا ہے کہ صبح نمودار ہو جاتی ہے وہی حال قیامت کے ظہور کا بھی ہو گا۔ یہ دنیا رات کے مانند ہے جس کی تاریکی صبح قیامت کو ڈھانکے ہوئے ہے لیکن وقت آئے گا کہ یہ تاریکی کافور ہو گی اور قیامت اچانک نمودار ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ جو ہر روز رات کی تاریکی کے بعد دن کی روشنی دکھاتا ہے اور کسی کو بھی اس کائنات کے اس عظیم انقلاب پر تعجب نہیں ہوتا وہ جب چاہے گا قیامت کو بھی اسی طرح نمودار کر دے گا اور اس وقت سب دیکھ لیں گے کہ جس چیز کو وہ ناممکن سمجھتے تھے وہ سامنے آ گئی۔ بالکل یہی قَسم، معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ، انذار قیامت کی تائید ہی کے مقصد سے سورۂ تکویر میں یوں آئی ہے: وَاللَّیْْلِ إِذَا عَسْعَسَ ۵ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ (التکویر ۸۱: ۱۷-۱۸) ’’شاہد ہے رات جب کہ جانے لگتی ہے اور شاہد ہے صبح جب کہ وہ سانس لیتی ہے۔‘‘ اس کائنات کے ہر گوشے میں قیامت کی دلیل موجود ہے: اس تفسیر میں جگہ جگہ ہم اس حقیقت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے اس طرح بنائی ہے کہ اس کے ہر گوشے میں کسی نہ کسی شکل میں قیامت کا ریہرسل برابر ہوتا رہتا ہے تاکہ انسان کو اس کے باب میں جو شبہ بھی لاحق ہو اس کو دور کرنے کے لیے اسے اپنے گرد و پیش ہی سے کوئی ایسی مثال مل جائے جو اس کے دل کو مطمئن کر دے بشرطیکہ اس کے اندر سلامت روی اور حق کی طلب ہو۔