Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 32

  1. كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ﴿32﴾

    1. كَلَّانہیں نہیں
    2. وَالْقَمَرِقسم ہے چاند کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہرگز نہیں، شاہد ہے چاند
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آفاق کی بعض نشانیوں کا حوالہ: یہ آفاق کی چند نشانیوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس قیامت اور دوزخ سے لوگوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے وہ اس کائنات کے عظیم حوادث میں سے ہے اور اس کا ظہور قطعی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں تدریج و ترتیب ہے۔ جب اس کا وقت آ جائے گا تو وہ ظاہر ہو جائے گی۔ اپنے وقت سے پہلے نہیں ظاہر ہو گی۔ اس کے ظہور میں تاخیر سے یہ سمجھ بیٹھنا کہ وہ ظاہر ہو گی ہی نہیں حماقت ہے۔ رات میں اگر کوئی صبح کے لیے جلدی کرے تو اس کی جلد بازی کے سبب سے صبح اپنے وقت سے پہلے نہیں آئے گی۔ یہی حال قیامت کا ہے۔ اس کا بھی ایک وقت مقرر ہے۔ ٹھیک اسی وقت پر ظاہر ہو گی۔ ’کَلَّا وَالْقَمَرِ‘۔ آفاق کی نشانیوں میں سے پہلے چاند کی قسم کھائی ہے اور اس سے پہلے ’کَلَّا‘ کے ذریعے سے مخاطب کے زعم باطل کی پوری شدت سے تردید فرما دی ہے۔ قسم سے پہلے حرف نفی کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ اس طرح کے مواقع میں متکلم گویا مخاطب کے خیال کی تردید میں اتنا توقف بھی نہیں کرنا چاہتا کہ دلیل بیان کرنے کے بعد اس کی تردید کرے بلکہ شدت نفرت کے اظہار کے لیے اس کی تردید ہی سے کلام کا آغاز کرتا ہے اور پھر بقید قسم اپنی دلیل بیان کرتا ہے۔ قرآن مجید میں یہ اور اس نوع کی تمام قسمیں، جیسا کہ ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آ رہے ہیں، بطور شہادت یا بالفاظ دیگر اس دعوے کی دلیل کے طور پر کھائی گئی ہیں جو ان کے بعد مذکور ہوا ہے۔ یہاں مخاطب، جیسا کہ موقع و محل سے واضح ہے، مکذبین قیامت ہیں اور ان کا جو شبہ زیر بحث ہے وہ یہ ہے کہ قیامت آنی ہے تو آ کیوں نہیں جاتی۔ ان کے سامنے چاند کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے کہ جس طرح وہ درجہ بدرجہ ہلال سے بدر کے مقام تک پہنچتا ہے اسی طرح تم بھی مختلف اطوار و مراحل سے گزرتے ہوئے بالآخر ایک دن اس مقام تک پہنچو گے جہاں پہنچنے کی تمہیں خبر دی جا رہی ہے اور اپنے رب کے عدل کامل کے ظہور کا مشاہدہ کرو گے۔ جس طرح چاند کے سفر کے لیے منزلیں مقرر ہیں: (’وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ مَنَازِلَ‘ (یٰسٓ ۳۶: ۳۹) (اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں ٹھہرا دی ہیں)۔ اسی طرح اس روز جزا و سزا کے لیے بھی منزلیں مقرر ہیں جن سے گزرے بغیر اس کا ظہور نہیں ہو گا۔ کائنات کے نظام میں ہر تغیر اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اسکیم کے مطابق آتا ہے۔ دوسروں کی طلب و تمنا اور ان کی عجلت یا تاخیر کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ دن آئے گا ضرور، اس کے آئے بغیر اس دنیا کی تخلیق کا مقصد پورا نہیں ہو گا لیکن یہ اسی وقت آئے گا جب اللہ تعالیٰ کی تقویم میں اس کا مقررہ وقت، منٹ اور سیکنڈ کے فرق کے بغیر پورا ہو جائے گا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے چاند کے طلوع و غروب اور اس کے عروج و محاق سے دین کے مختلف حقائق پر استشہاد کیا ہے جن کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے اور آگے کی سورتوں میں بھی بعض اہم چیزیں آئیں گی جن کی ہم ان شاء اللہ وضاحت کریں گے۔ یہاں اس کے تدریجی ارتقاء کا پہلو پیش نظر ہے اور مقصود قیامت کے لیے جلدی مچانے والوں کو توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر نشانی کے ظہور کے لیے ایک معین پروگرام ہے جس کی حکمتوں اور مصلحتوں کو وہی جانتا ہے۔ جو چیز اس کے عدل کا بدیہی مقتضیٰ ہے اس کا ظہور تو لازماً ہو گا لیکن ہو گا اپنے وقت پر۔ سورۂ انشقاق میں بھی چاند کی قسم وارد ہوئی ہے اور ہمارے نزدیک وہاں بھی اسی پہلو کی طرف اشارہ ہے۔ فرمایا ہے: وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ ۵ لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ (انشقاق ۸۴: ۱۸-۱۹) ’’شاہد ہے چاند جب کہ وہ کامل ہوتا ہے کہ تم بھی درجہ بدرجہ بڑھو گے۔‘‘ یعنی خدا کے مقرر کردہ روز جزاء و سزا کے لیے تمہاری حاضری تو لازمی ہے لیکن جس طرح چاند درجہ بدرجہ اپنے آخری نقطہ پر پہنچتا ہے اسی طرح یہ دن بھی اپنے مراحل طے کر کے ظہور میں آئے گا۔