Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 4

  1. وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ﴿4﴾

    1. وَثِيَابَكَاور اپنے کپڑے
    2. فَطَهِّرْسو پاک کرو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اپنے دامن کو پاک رکھ
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لفظ ’ثیاب‘ کا مفہوم: لفظ ’ثِیَابٌ‘ جمع ہے ’ثَوْبٌ‘ کی جس کے معنی کپڑے کے ہیں لیکن اس کے معنی دامن کے بھی ہو سکتے ہیں۔ بلکہ کلام عرب کے شواہد سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس مفہوم میں بھی آتا ہے جس کو ہم اپنی زبان میں ’دامن دل‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ امرء القیس کا مشہور شعر ہے: وان تک قد ساء تک منی خلیفۃ فسلی ثیابی من ثیابک تنسل ’’اگر میری حرکت تجھے بری ہی لگی ہے تو میرے دامن دل کو اپنے دامن دل سے جدا کر دے تو جدا ہو جائے گی۔‘‘ اس شعر میں شارحین نے ’ثیاب‘ کو دل ہی کے معنی میں لیا ہے اور یہ معنی اس صورت میں لیے جا سکتے ہیں جب اس کو بطریق استعارہ ’دامن دل‘ کے مفہوم میں سمجھا جائے۔ امرء القیس ہی کا مصرعہ ہے: ثیاب بنی عوف طھاری نقیّۃ ’’بنی عوف کے دامن بالکل پاک صاف ہیں۔‘‘ لفظ ’ثیاب‘ کے اس مفہوم کی روشنی میں آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ تم بالکل بے خوف ہو کر اپنے رب کی کبریائی اور وحدت کی منادی کرو۔ مخالفین خواہ کتنی خاک بازی کریں اور کتنا ہی زور لگائیں لیکن تم اپنے دامن دل پر نجاست شرک کا کوئی چھینٹا نہ آنے دو۔ یہ امر واضح رہے کہ قرآن نے نہایت واضح الفاظ میں مشرکوں کو نجس اور شرک کو نجاست سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ ہدایت آپ کو اس لیے فرمائی گئی کہ بعد کے مراحل میں قریش کے لیڈروں نے آپ کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ وہ آپ کی سب باتیں مان لیں گے بشرطیکہ آپ بھی ان کے معبودوں کا کوئی مقام تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں لیکن آنحضرت ﷺ نے ان کی یہ بات نہایت سختی سے رد فرما دی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی آپ کو نہایت تاکید کے ساتھ یہی ہدایت ہوئی کہ توحید بنیاد دین ہے، اس باب میں آپ کوئی لچک ہرگز قبول نہ کریں: ’وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ‘ (القلم ۶۸: ۹) (وہ چاہتے ہیں کہ تم کچھ نرم پڑو تو وہ بھی کچھ نرم ہو جائیں) اور اسی مضمون کی ایک سے زیادہ آیتوں میں اس صورت حال کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ یہاں بھی اسی طرح کی ایک نہایت اہم تنبیہ ہے۔ پیغمبرؐ کو خطاب کرکے مشرکین پر گویا یہ حقیقت واضح کر دی گئی کہ شرک ایک ایسی نجاست ہے جس کا کوئی چھینٹا بھی اللہ کا رسول اپنے دامن پر گوارا کرنے والا نہیں ہے۔