تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 50
كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ﴿50﴾
- كَاَنَّهُمْگویا کہ وہ
- حُمُرٌگدھے
- مُّسْتَنْفِرَةٌبھاگے ہوئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
گویا کہ وہ بدکے ہوئے گدھے ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ ان کی وحشت زدگی کی مثال ہے۔ فرمایا کہ ان کا حال ان بدکے ہوئے گدھوں کا ہے جو شیر سے ڈر کے بھاگے ہوں۔ ’قَسْوَرَۃٌ‘ شیر کو کہتے ہیں۔ گدھے اور گورخر وغیرہ شیر کی آواز سن کر بھاگے ہوں تو وہ بڑی مشکل سے قرار پکڑتے ہیں۔ کسی طرف سے ذرا بھی کھٹکا ہو تو وہ اس طرح بھاگتے ہیں گویا شیر ہی آ گیا۔ فرمایا کہ یہی حال ان لوگوں کا ہے۔ یہ اس یاددہانی سے ایسے سہمے ہوئے ہیں کہ اس کا ایک حرف بھی سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ ایک حقیقت جب اتنی واضح ہو کہ آدمی کا دل اس کے انکار پر بھی مطمئن نہ ہو اور اس کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار نہ ہو تو اس سے اس کے گریز و فرار کی شکل یہی ہوتی ہے جو اس مثال میں واضح فرمائی گئی ہے۔ اس کی خواہش اور کوشش ہر وقت رہتی ہے کہ کسی طرف سے اس کے کانوں میں کوئی ایسی آواز نہ پڑنے پائے جو اس حقیقت کو یاد دلا دے۔