تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 56
وَ مَا یَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ۠ع﴿56﴾
- وَمَااور نہ
- يَذْكُرُوْنَوہ یاد رکھیں گے
- اِلَّآمگر
- اَنْیہ کہ
- يَّشَآءَ اللّٰهُ ۭاللہ چاہے
- هُوَوہی
- اَهْلُ التَّقْوٰىڈرنے کے لائق
- وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِمغفرت کے لائق
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے وہی اہل تقویٰ اور وہی سزا دار مغفرت ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ہدایت کے باب میں سنت الٰہی:
یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں اس نے پسند فرمائی ہے اور جو اس کتاب میں جگہ جگہ زیربحث آ چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی کو بخشتا ہے جو اپنے سمع و بصر اور فواد کی صلاحیتوں سے کام لیتے ہیں، جو فطرت کے نور کی قدر کرتے ہیں، جو آفاق و انفس کی نشانیوں پر غور کرتے ہیں اور ہر اس بات کو سننے اور سمجھنے کے لیے اپنے کان کھلے رکھتے ہیں جو معقول ہو اگرچہ وہ ان کے نفس کی خواہشوں کے کتنے ہی خلاف ہو۔ اللہ تعالیٰ کی ہر مشیت اس کی حکمت کے تحت ہے۔ وہ انہی کو ہدایت بخشتا ہے جو ہدایت کی قدر کرنے والے ہوتے ہیں۔ جو اس کی قدر نہیں کرتے ان کو ہدایت دینا تو درکنار اللہ تعالیٰ ان کی وہ صلاحیت بھی سلب کر لیتا ہے جو فطرت کی راہ سے ان کو حاصل ہوئی ہوتی ہے۔ اس باب میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ارشاد کا حوالہ ہم جگہ جگہ دے چکے ہیں۔
’ہُوَ اَہْلُ التَّقْوٰی وَأَہْلُ الْمَغْفِرَۃِ‘۔ مفسرین نے عام طور پر ’ہُوَ‘ کا مرجع ’اللّٰہ‘ کو قرار دیا ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ ہی تقویٰ کا سزاوار ہے اور مغفرت کا اہل ہے لیکن ہمارے نزدیک اس کا تعلق ’فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہٗ‘ سے ہے۔ ’مَنْ‘ واحد، جمع دونوں کے لیے آتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے ضمیریں دونوں قسم کی استعمال ہو سکتی ہیں۔ یہ بتایا گیا ہے کہ کون اس قرآن سے یاددہانی حاصل کرے گا اور اس کے صلہ میں اللہ کی مغفرت کا سزاوار ٹھہرے گا اور کون اس سے محروم رہیں گے۔ فرمایا کہ جن کے اندر خدا کا خوف ہو گا وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے اور وہ مغفرت کے اہل ٹھہریں گے۔ رہے وہ جن کے سینے خوف خدا سے خالی ہیں وہ اس سے محروم ہی رہیں گے اور جب وہ اس سے محروم رہیں گے تو خدا کی مغفرت سے بھی محروم رہیں گے۔ سورۂ بقرہ کے آغاز میں ’ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ‘ کے تحت ہم واضح کر چکے ہیں کہ قرآن کا فیض کن لوگوں کو پہنچتا ہے اور کون لوگ اس سے محروم رہتے ہیں۔ اس سنت الٰہی کی تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔ تقویٰ کے مختلف مدارج ہیں۔ انسان کی فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو تقویٰ ودیعت فرمایا ہے اور جس کا ذکر ’فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا‘ (الشمس ۹۱: ۸) میں ہے، یہاں اسی تقویٰ کی طرف اشارہ ہے۔ آگے والی سورہ میں ان شاء اللہ اس فطری تقویٰ کی پوری وضاحت آپ کے سامنے آئے گی۔