تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 1
لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ﴿1﴾
- لَآ اُقْسِمُنہیں میں قسم کھاتا ہوں
- بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِقیامت کے دن کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
نہیں، میں قسم کھاتا ہوں روز محشر کی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قسم سے پہلے ’لا‘ کے استعمال کی نوعیت:
عربیت کے اس اسلوب کی وضاحت ایک سے زیادہ مقامات میں ہو چکی ہے کہ قسم سے پہلے جب اس طرح ’لا‘ آیا کرتا ہے جس طرح یہاں ہے تو وہ قسم کی نفی کے لیے نہیں بلکہ مخاطب کے اس خیال کی نفی کے لیے آتا ہے جس کی تردید اس قسم سے مقصود ہوتی ہے! اس کی مثالیں جس طرح عربی زبان میں بکثرت موجود ہیں اسی طرح ہماری زبان میں بھی یہ اسلوب معروف ہے۔ آپ جس کسی شخص کی بات کی فوری تردید کرنی چاہتے ہیں تو کہتے ہیں: نہیں، خدا کی قسم، اصل حقیقت یوں ہے۔ اس اسلوب قسم سے اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ متکلم کے نزدیک مخاطب کی بات اتنی لغو ہے کہ وہ اس کی تردید میں اتنے توقف کا بھی روادار نہیں کہ قسم کے بعد اس کی تردید کرے بلکہ اس سے پہلے ہی اس کی تردید بلکہ اپنی بیزاری کا اظہار ضروری سمجھتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس ’لا‘ کو زائد اور بعضوں نے اس کو فعل سے متصل مانا ہے لیکن یہ دونوں رائیں عربیت کے خلاف ہیں۔ ہم نے جگہ جگہ اس کتاب میں اس کی تردید کی ہے۔ استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی تفسیر سورۂ قیامہ میں اس پر وضاحت سے بحث کی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو اس کی مراجعت فرمائیے۔
یہاں قسم کا مقسم علیہ مذکور نہیں ہے۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔
مقسم علیہ کے حذف کی بلاغت: ایک یہ کہ یہاں مقسم علیہ اتنا واضح ہے کہ اس کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے۔ گویا قسم خود اپنے مقسم علیہ پر دلیل ہے۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب۔ اس کی متعدد مثالیں پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ سورۂ قٓ اور سورۂ صٓ میں ’وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ‘ اور ’وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ‘ کی قسمیں بھی اسی طرح مقسم علیہ کے بغیر آئی ہیں۔ اس طرح کی قسموں سے مقصود مخاطب پر یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ وہ جس چیزکی تردید یا تکذیب کر رہا ہے وہ خود اپنی صداقت پر ایسی شاہد عدل ہے کہ اس کے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کے بعد ’نفس لوامہ‘ کی جو قسم ہے وہ قیامت کے حق ہونے پر ایسی بدیہی دلیل ہے کہ اس کی تکذیب، جیسا کہ آگے وضاحت آئے گی، آدمی کے خود اپنے قلب و ضمیر کی تکذیب کے ہم معنی ہے۔ اس شہادت کے ہوتے قیامت کسی دلیل کی محتاج نہیں رہ جاتی بلکہ وہ بجائے خود دعویٰ اور دلیل قسم اور مقسم علیہ دونوں کی حیثیت حاصل کر لیتی ہے۔