Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 13

  1. یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ﴿13﴾

    1. يُنَبَّؤُاوہ جتلادیا جائے گا
    2. الْاِنْسَانُانسان
    3. يَوْمَئِذٍۢآج کے دن
    4. بِمَا قَدَّمَوہ جو اس نے آگے بھیجا
    5. وَاَخَّرَاور اس نے پیچھے چھوڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قیامت کی غایت: یہ مقصد بیان ہوا ہے اس دن کے آنے کا۔ فرمایا کہ اس دن ہر شخص کو آگاہ کیا جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ آگاہ کرنے سے مقصود یہ ہے کہ اس دن اس کے سارے اعمال کے نتائج سامنے رکھ دیے جائیں گے۔ دنیا کی زندگی میں جو بدیاں اس نے کمائیں وہ بھی اس کے سامنے آ جائیں گی اور جن نیکیوں سے منہ موڑا ان کے نتائج بھی سامنے آ جائیں گے۔ قرآن میں جا بجا یہ تصریح ہے کہ اس دن آخرت سے غافل رہنے والے اپنے سر پیٹیں گے کہ کاش! ہم نے آج کے دن کے لیے فلاں اور فلاں کام کر لیے ہوتے اور یہ بھی کہیں گے کہ کاش! ہم نے رسولوں کے انذار سے انحراف نہ کیا ہوتا بلکہ ان کی دعوت پر ایمان لائے ہوتے۔ ’قَدَّمَ‘ اور ’اَخَّرَ‘ کے الفاظ ان کے تمام اعمال بد اور ان کی ساری کوتاہیوں و کج رویوں کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ آخرت کی فیروزمندی کے لیے انسان کو بہت سے نیک کام کرنے اور بہت سے برے کام چھوڑنے پڑتے ہیں لیکن جو لوگ آخرت سے غافل یا اس کے منکر ہوتے ہیں وہ ان کاموں سے تو غافل یا منحرف رہتے ہیں جو وہاں کے لیے زادراہ کا کام دینے والے ہیں اور جو باتیں آخرت میں تباہی کا باعث بننے والی ہوتی ہیں، ساری زندگی وہ انہی کا ذخیرہ جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس آیت میں ایسے ہی محروموں کے لیے تذکیر و تنبیہ ہے۔