Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 14

  1. بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ﴿14﴾

    1. بَلِ الْاِنْسَانُبلکہ انسان
    2. عَلٰيپر
    3. نَفْسِهٖاپنی جان (حالت)
    4. بَصِيْرَةٌباخبر
Translation · Tadabbur-e-Quran
بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے: یہ اسی بات کی وضاحت دوسرے الفاظ میں ہے جو اوپر ’بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ‘ کے الفاظ میں فرمائی گئی ہے۔ وہاں مخالفین قیامت کے سوال ’یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ‘ کے تعلق سے کلام کا رخ تصویر قیامت کی طرف مڑ گیا تھا۔ اس کے بعد اصل سلسلۂ کلام پھر عود کر آیا اور بات پوری کر دی گئی۔ فرمایا کہ انسان قیامت سے گریز کے لیے کتنے ہی بہانے بنائے لیکن وہ اپنے نفس پر خود حجت اور گواہ ہے۔ ’بَصِیْرَۃٌ عَلٰی نَفْسِہٖ‘ کے معنی ہوں گے ’شَاھِدٌ عَلٰی نَفْسِہٖ‘ (وہ اپنے اوپر خود گواہ ہے)۔ اس کی دلیل اوپر بیان ہو چکی ہے کہ انسان کے اندر اس کا نفس لوامہ قیامت کا شاہد ہے، اس کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اپنے ہی ضمیر کے آئینے میں اس کی صورت دیکھ سکتا ہے۔