تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 23
اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ﴿23﴾
- اِلٰىطرف
- رَبِّهَااپنا رب
- نَاظِرَةٌدیکھتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اپنے رب کی رحمت کے متوقع
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’إِلَی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ‘ کا صحیح مفہوم:
’اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ‘ کے معنی ہیں وہ اپنے رب کی رحمت و عنایت کے متوقع و منتظر ہوں گے۔ ’نَظَر‘ کے بعد جب ’اِلٰی‘ کا صلہ آتا ہے تو اس کے معنی جس طرح کسی چیز کی طرف دیکھنے کے آتے ہیں اسی طرح کسی کی رحمت و عنایت کے متوقع و منتظر ہونے کے بھی آتے ہیں۔ ماہرین لغت نے اس کی وضاحت یوں کی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے، جس سے اس کو عنایت کی توقع ہو، یہ کہے کہ ’اِنَّمَا نَنْظُرُ الی اللّٰہ ثم الیک‘ تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم اللہ کے فضل اور اس کے بعد آپ کی عنایت کے متوقع ہیں۔۱
رویت باری کے مسئلہ میں ہمارا نقطۂ نظر: ’اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ‘ سے بعض لوگوں نے رویت باری تعالیٰ پر استدلال کیا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک، جیسا کہ اس کی تاویل اور اس کے موقع و محل سے واضح ہے، یہ آیت اس مسئلہ سے تعلق رکھنے والی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بالکل ہی دوسرے موقع و محل کی آیت ہے۔ اسی طرح جن لوگوں نے رویت باری تعالیٰ کی مخالفت کی ہے اور اس مخالفت کے جوش میں ’اِلٰی‘ کے معنی ہی بدل دیے ہیں، ان کی رائے بھی ہمارے نزدیک بالکل غلط ہے۔ رویت باری تعالیٰ کے بارے میں ہماری رائے یہ ہے کہ اس دنیا میں تو ہمارا ایمان، ایمان بالغیب ہے، ہم اپنے رب کو اس کی آیات اور نشانیوں کی اوٹ ہی سے دیکھ سکتے ہیں لیکن آخرت میں ہمارا ایمان بالمشاہدہ ہو گا اور ہر حقیقت کے باب میں ہمیں حق الیقین کا مرتبہ حاصل ہو گا۔ رہا یہ سوال کہ اس مشاہدہ کی نوعیت کیا ہو گی تو اس کی حقیقت اس دنیا میں معلوم نہیں ہو سکتی۔ یہ چیز متشابہات میں داخل ہے اور متشابہات میں تعمق جائز نہیں ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہی جانتا ہے کہ اس مشاہدے کی نوعیت کیا ہو گی؟
_____
۱ اقرب الموارد