تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 3
اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ﴿3﴾
- اَيَحْسَبُکیا گمان کرتا ہے
- الْاِنْسَانُانسان
- اَلَّنْ نَّجْمَعَکہ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے
- عِظَامَهٗاس کی ہڈیاں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا انسان نے گمان کررکھا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر پاویں گے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حقیقت سے فرار کے لیے منکرین قیامت کی سخن سازی:
اگرچہ لفظ ’انسان‘ عام ہے لیکن روئے سخن قریش کے انہی منکرین قیامت کی طرف ہے جن کے شبہات پچھلی سورتوں میں زیربحث آئے ہیں۔ ان سے اظہار بیزاری کے لیے بات عام لفظ سے فرما دی ہے۔ فرمایا کہ قیامت کو ثابت کرنے کے لیے یہ شہادت تو ہر انسان کے اپنے اندر ہی موجود ہے۔ اس کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ لوگ یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ ان کے مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد ہم ان کی ہڈیوں کو جمع نہیں کر پائیں گے۔ فرمایا کہ اگر یہ چیز ان کو بعید از امکان نظر آئی ہے اور اس بنا پر وہ اپنے ضمیر کی شہادت کے خلاف قیامت کو جھٹلا رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ ہم ان کی ہڈیوں کو صرف جمع ہی نہیں کریں گے بلکہ اس قدرت و کمال کے ساتھ جمع کریں گے کہ ان کے جوڑ جوڑ پور پور ٹھیک کر دیں گے۔ ’بنان‘ انگلیوں کے پور کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی حقیر سے حقیر جزو بھی ایسا نہ ہو گا جس کے جمع کرنے اور جوڑنے سے ہم قاصر رہ جائیں۔ ’قٰدِرِیْنَ‘ حال واقع ہے ’نَجْمَعَ‘ کی ضمیر جمع سے۔