تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 2
وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ﴿2﴾
- وَلَآ اُقْسِمُاور نہیں میں قسم کھاتا ہوں
- بِالنَّفْسِدل کی
- اللَّوَّامَةِاپنے اوپر ملامت کرنیوالے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں نفس ملامت گر کی !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نفس لوامہ کی شہادت قیامت پر:
یہ دوسری قسم ہے اور اس کا مقسم علیہ بھی مذکور نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مقسم علیہ خود قسم کے اندر ہی مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر نفس لوامہ کا وجود شاہد ہے کہ قیامت حق ہے۔ گویا اس دوسری قسم نے قسم ہی کے پیرایہ میں دعوے اور دلیل دونوں کی وضاحت کر دی اور اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ قیامت کسی خارجی دلیل کی محتاج نہیں ہے۔ اس کا عکس ہر انسان کے اپنے باطن کے اندر موجود ہے اور وہ اس کو دیکھتا بھی ہے اگرچہ اس کی تردید میں کتنی ہی دلیل بازیاں کرے۔
’نفس لوامہ‘ سے مراد کوئی علیحدہ اور مستقل نفس نہیں ہے بلکہ یہ نفس انسانی ہی کا ایک پہلو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کی تشکیل اس طرح فرمائی ہے کہ اس کے اندر نیکی اور بدی دونوں کا شعور ودیعت فرمایا ہے اور اس کی سعادت و شقاوت کے لیے ضابطہ یہ ٹھہرایا ہے کہ جو اپنے نفس کو برائیوں سے پاک رکھے گا وہ فلاح پانے والا بنے گا اور جو اس کو برائیوں سے آلودہ رکھے گا وہ نامراد ہو گا۔ سورۂ شمس میں اس کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے:
وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاہَا ۵ فَأَلْہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَتَقْوَاہَا ۵ قَدْ أَفْلَحَ مَنۡ زَکَّاہَا ۵ وَقَدْ خَابَ مَنۡ دَسَّاہَا (الشمس ۹۱: ۷-۱۰)
’’اور شاہد ہے نفس اور اس کی تشکیل۔ پس اس کو الہام کر دی اس کی بدی اور نیکی۔ جس نے اس کو پاک رکھا اس نے فلاح پائی اور جس نے اس کو آلودہ رکھا وہ نامراد ہوا۔‘‘
اپنی تشکیل کی اس نوعیت کے سبب سے نفس بعض اوقات اپنی خواہشوں سے مغلوب ہو کر اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے اور وہ انسان کو کسی برائی پر آمادہ کر دیتا ہے۔ نفس کے اس رجحان کو قرآن میں نفس امارہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے نفس کے اس پہلو کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے:
وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِیْ إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَۃٌ بِالسُّوۡءِ (یوسف ۱۲: ۵۳)
’’اور میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہراتا۔ نفس بڑا ہی برائی کی راہ سمجھانے والا ہے۔‘‘
لیکن یہ نفس نیکیوں کا شعور بھی رکھتا ہے، اس وجہ سے جب تک اس کا توازن برقرار رہتا ہے اس وقت تک وہ اپنے کو بھی، اگر اس سے کوئی برائی صادر ہو جاتی ہے، ملامت کرتا ہے اور دوسروں کی برائیوں کو دیکھ کر بھی کڑھتا اور بسا اوقات ملامت کرتا ہے۔ نفس کے اسی پہلو کو یہاں نفس لوامہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
نفس کے توازن کو قائم رکھنے کی تدبیر: نفس کے توازن کو درست رکھنے کی تدبیر اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ آدمی برابر اپنے رب اور روز جزا و سزا کو یاد رکھے۔ یہ یاد نفس کے توازن کو درست رکھتی ہے اور وہ کبھی اس کی خواہشوں سے اتنا مغلوب نہیں ہوتا کہ بالکل ان کے آگے سپرانداز ہو جائے۔ اگر کبھی کوئی لغزش ہو جاتی ہے تو نفس لوامہ اس کو فوراً ٹوکتا ہے اور وہ متنبہ ہو کر توبہ و انابت سے اس داغ کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ جس نفس کے اندر یہ توازن پیدا ہو جائے قرآن نے اس کو نفس مطمئنہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ تربیت نفس کا سب سے اونچا مرتبہ یہی ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو دعوت دی ہے اور شریعت کے ذریعہ سے جس کا اہتمام فرمایا ہے۔ اسی نفس کو آخرت میں ’رَاضِیَۃً مَرْضِیَّۃ‘ کا مقام حاصل ہو گا جو نفس انسانی کی معراج ہے۔
بدی کے بدی ہونے کا شعور انسان کی فطرت کے اندر موجود ہے: اس تفصیل سے واضح ہوا کہ بدی کے بدی ہونے کا شعور انسان کی فطرت کے اندر روز اول سے ودیعت ہے۔ آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے حسد سے مغلوب ہو کر اپنے بھائی ہابیل کو قتل تو کر دیا لیکن قتل کر دینے کے بعد اس کی لاش کو چھپانے کی بھی کوشش کی۔ یہ کوشش ظاہر ہے کہ اسی وجہ سے اسے کرنی پڑی کہ اس کے گناہ ہونے کا اسے احساس ہوا۔ برے سے برا آدمی بھی گناہ کرتا ہے تو اس کو نیکی سمجھ کر نہیں کرتا بلکہ جذبات اور خواہشوں سے مغلوب ہو کر ہی کرتا ہے۔ اگر اس گناہ کے معاملے میں وہ اپنے نفس کو الاؤنس بھی دیتا ہے تو یہ بھی اپنی فطرت کے خلاف دیتا ہے اس لیے کہ وہی برائی اگر کوئی دوسرا اس کے ساتھ کر بیٹھتا ہے تو وہ اس کو برائی ٹھہراتا اور اس کے خلاف احتجاج کرتا ہے۔ بروں کے ضمیر کو ٹٹولیے تو معلوم ہو گا کہ ان کے اندر بھی احترام اور عزت نیکی ہی کے لیے ہے اگرچہ ان کا عمل اس کے خلاف ہے۔ انسان نے جب سے معاشرتی و اجتماعی زندگی کی کوئی شکل اختیار کی ہے اس کے اندر اس نے حق و انصاف کے قیام کے لیے لازماً ایک نظام بھی قائم کیا ہے۔ اگرچہ بسا اوقات بعض برائیوں نے معاشرے پر ایسا غلبہ پا لیا ہے کہ نیکیاں ان کے نیچے دب گئی ہیں، لیکن معاشرے کا مجموعی ضمیر اس پر کبھی راضی نہیں ہوا بلکہ اس کے اندر ایسے لوگ موجود رہے ہیں جنھوں نے معاشرے کے اندر وہی فریضہ انجام دیا ہے جو ہر صحیح الفطرت انسان کے اندر اس کا نفس لوامہ انجام دیتا ہے۔ اگر معاملہ اس حد سے گزر گیا ہے یعنی نیکی کی کوئی رمق سرے سے باقی ہی نہیں رہ گئی ہے تو قانون قدرت نے اس معاشرے کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا ہے۔
چند سوال اور ان کے جواب: اب سوال یہ ہے کہ جب انسان خود اپنے ضمیر کے اندر ایک نگران رکھتا ہے جو اس سے صادر ہو جانے والی برائیوں پر اس کو ٹوکتا رہتا ہے، تو اس کے لیے یہ تصور کرنا کس طرح معقول قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک شتر بے مہار ہے، جس طرح کی زندگی وہ چاہے بسر کرے اور جس قدر چاہے اس نگران کی مخالفت کرے لیکن کوئی اس سے بازپرس کرنے کا حق نہیں رکھتا؟ اگر انسان شتر بے مہار ہے تو یہ نفس لوامہ اس کے اندر کہاں سے آ گھسا؟ اگر اس کا خالق لوگوں کی نیکی اور بدی دونوں سے بے تعلق ہے تو اس نے نیکی کی تحسین اور بدی پر سرزنش کے لیے انسان کے اندر یہ خلش کیوں اور کہاں سے ڈال دی؟ پھر یہیں سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب اس نے ہر انسان کے اندر یہ چھوٹی سی عدالت قائم کر رکھی ہے تو اس پورے عالم کے لیے وہ ایک ایسی عدالت کبریٰ کیوں نہ قائم کرے گا جو سارے عالم کے اعمال خیر و شر کا احتساب کرے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے؟ ان سوالوں پر جو شخص خواہشوں سے آزاد ہو کر غور کرے گا وہ ان کا یہی جوا ب دے گا کہ بے شک انسان کا اپنا وجود گواہ ہے کہ وہ خیر و شر کے شعور کے ساتھ پیدا ہوا ہے، وہ شتر بے مہار نہیں ہے بلکہ اس کے لیے لازماً ایک پرسش کا دن آنے والا ہے جس میں اس کو اس کی بدیوں کی سزا ملے گی اگر اس نے یہ بدیاں کمائی ہوں گی اور نیکیوں کا صلہ ملے گا اگر اس نے نیکیاں کی ہوں گی۔ اسی دن کی یاددہانی ہی کے لیے خالق نے اس کا ایک چھوٹا سا نمونہ خود انسان کے نفس کے اندر رکھ دیا ہے تاکہ انسان اس سے غافل نہ رہے اور اگر کبھی غفلت ہو جائے تو خود اپنے نفس کے اندر جھانک کر اس کی تصویر دیکھ لے۔ یہی حقیقت حکماء اور عارفین نے یوں سمجھائی ہے کہ انسان ایک عالم اصغر ہے جس کے اندر اس عالم اکبر کا پورا عکس موجود ہے، اگر انسان اپنے کو صحیح طور پر پہچان لے تو وہ خدا اور آخرت سب کو پہچان لیتا ہے۔ سقراط کا مقولہ مشہور ہے کہ ’’اے انسان! تو اپنے کو پہچان!‘‘