Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 5

  1. بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ﴿5﴾

    1. بَلْبلکہ
    2. يُرِيْدُچاہتا ہے
    3. الْاِنْسَانُانسان
    4. لِيَفْجُرَکہ گناہ کرتا رہے
    5. اَمَامَهٗاپنے آگے کو بھی
Translation · Tadabbur-e-Quran
بلکہ انسان اپنے (ضمیر کے) آگے شرارت کرنا چاہتا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی قیامت کا انکار اس بنا پر کہ ہڈیوں کو جمع کرنا ان کو بعید از امکان نظر آتا ہے محض حقیقت سے فرار کے لیے سخن سازی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنی خواہشوں کے ایسے غلام بن چکے ہیں کہ ان کی پیروی میں وہ خدا کے مقرر کیے ہوئے محتسب کے سامنے شرارت کرنا چاہتے ہیں جو کہیں دور نہیں بلکہ خود ان کے اندر ہی بیٹھا ہوا ہے۔ ان کی مثال اس چور کی ہے جو کوتوال کی موجودگی میں چوری کرے۔ ’اَمَامَہٗ‘ کا مطلب عام طور پر لوگوں نے یہ لیا ہے کہ انسان اپنی آگے کی زندگی میں برابر اپنے گناہوں پر جما رہنا چاتا ہے اس وجہ سے قیامت کے انکار کے لیے بہانے تلاش کرتا ہے لیکن یہ مطلب لینے میں نہ نفس لوامہ کی شہادت سے اس کا کوئی تعلق واضح ہوتا اور نہ اس میں انسان پر اس کے اس رویے کے خلاف کوئی حجت ہی قائم ہوتی۔ ’اپنے آگے‘ سے مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ انسان اپنے ضمیر اور اپنے نفس لوامہ کے روبرو، اس کی تذکیر و تنبیہ کے علی الرغم، شرارتیں کرنا چاہتا ہے۔ قیامت کی سب سے بڑی شہادت انسان کے نفس کے اندر ہی موجود ہے لیکن جو شخص خود اپنی تردید و تکذیب کے لیے اٹھ کھڑا ہو اس کا کیا علاج ہے! اس میں دلیل کا پہلو یہ ہے کہ قیامت پر حجت قائم کرنے کے لیے تو انسان کا ضمیر ہی کافی ہے لیکن جو شخص ’دروغ گویم بروئے تو‘ کی جسارت کرنے پر تلا بیٹھا ہو اس کا منہ نہیں بند کیا جا سکتا۔ اس سے یہ بات بھی نکلی کہ جو شخص اپنے نفس لوامہ یا دوسرے لفظوں میں اپنے ضمیر کے خلاف کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے وہ درحقیقت خدا کے روبرو برائی کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس لیے کہ ضمیر درحقیقت، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، خدا کا مقرر کردہ محتسب اور قاضی ہے تو جس نے اس کے آگے برائی کی اس نے خدا ہی کے آگے برائی کی۔