تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 7
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ﴿7﴾
- فَاِذَاپس جب
- بَرِقَچندھیاں جائیں گی
- الْبَصَرُآنکھیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جب نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی آج تو وہ اس کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں گویا اس کے مقابلہ کے لیے ہر قسم کی تیاری کیے بیٹھے ہیں لیکن جب اس کی ہولناکی سے سابقہ پیش آئے گا تو کہیں گے، اب کہاں بھاگیں؟
قیامت کے دکھا دیے جانے کا مطالبہ چونکہ ایک بالکل ہی احمقانہ مطالبہ ہے اس وجہ سے اس سے تو یہاں تعرض نہیں کیا لیکن اس کی ہولناکی کے بعض پہلو ان کے سامنے رکھ دیے۔ فرمایا کہ اس دن نگاہیں خیرہ ہو جائیں گی، چاند گہنا جائے گا، سورج اور چاند، جو آج اپنے الگ الگ مداروں میں گردش کر رہے ہیں، ان کی حد بندیاں ٹوٹ جائیں گی اور وہ آپس میں ٹکرا جائیں گے۔
یہ قیامت کے دن کے احوال ہیں جن کا تعلق متشابہات سے ہے۔ اس جہان میں ان کی اصل حقیقت کا سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ یہاں مقصود صرف یہ دکھانا ہے کہ جو دن ایسی ہلچل کا ہو گا کہ چاند اور سورج اپنے مداروں سے ہٹ کر ایک ہی مدار میں جا پڑیں گے۔ اس کی ہولناکی کا اندازہ کون کر سکتا ہے! مطلب یہ ہے کہ اگر عقل کا کوئی شائبہ تمہارے اندر ہے تو اس سے پناہ مانگو اور اس کی آفتوں سے بچنے کی جو راہ دکھائی جا رہی ہے اس کو اختیار کرو نہ کہ اس کے لیے جلدی مچاؤ۔
یہ امر یہاں واضح رہے کہ یہاں قیامت کے جو احوال بیان ہوئے ہیں وہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، صرف اس کا ہلکا سا تصور دینے کے لیے بیان ہوئے ہیں اور یہ اس کے بے شمار احوال میں سے صرف چند ہیں۔ آگے اسی گروپ کی سورتوں میں اس کے مختلف پہلو سامنے آئیں گے اور وہ بھی اس کے بے شمار پہلوؤں میں سے صرف چند ہی ہوں گے اس لیے کہ زبان ان کی تعبیر و تصویر سے قاصر ہے۔