تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 1
وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ﴿1﴾
- وَالْمُرْسَلٰتِہواؤں کی قسم
- عُرْفًادل کو خوش کرنیوالی
Translation · Tadabbur-e-Quran
شاہد ہیں ہوائیں جن کی باگ چھوڑ دی جاتی ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
عذاب کے شدنی ہونے پر شہادت:
’مُرْسَلَاتِ‘ کے معنی چھوڑی ہوئی کے ہیں۔ یہ لفظ یہاں ہواؤں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں نے اس سے ملائکہ کو بھی مراد لیا ہے لیکن بعد کی صفات، جیسا کہ واضح ہو گا، اس سے ابا کرتی ہیں۔ اس خیال کی بنیاد صرف اس غلط فہمی پر ہے کہ یہاں ’و‘ قسم کے لیے ہے اور عام خیال کے مطابق قسم کسی مقدس چیز کی ہونی چاہیے اس وجہ سے انھوں نے ’مُرْسَلَاتِ‘ سے فرشتوں کو مراد لیا۔ لیکن ہم جگہ جگہ تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ قرآن میں قسمیں بیشتر شہادت یعنی دعوے پر دلیل کی نوعیت کی ہیں۔ یہ قسم بھی اسی نوع کی ہے۔ جس طرح سورۂ ذاریات میں ہواؤں کی قسم عذاب اور جزا و سزا کے حق ہونے پر کھائی گئی ہے اسی طرح یہ قسم بھی وعدۂ عذاب و قیامت کے شدنی ہونے پر کھائی گئی ہے۔
لفظ ’عُرْفٌ‘ گھوڑے کی ایال کے بالوں کے لیے آتا ہے جو پیشانی پر لٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس معنی کے لیے یہ ایک معروف لفظ ہے۔ امرؤ القیس کا مشہور شعر ہے:
نمش باعراف الجیاد اکفنا
اذا نحن قمنا عن شواء مضھّبٖ
(جب ہم شکار کا کچا پکا گوشت کھا کر اٹھتے تو گھوڑوں کی ایال میں اپنے ہاتھ پونچھ لیتے)
گھوڑوں کی ایال پکڑ کر ان کو روکا بھی جا سکتا ہے اور اس کو چھوڑ کر ان کو جولانی کے لیے چھوڑا بھی جا سکتا ہے۔ آیت میں ہواؤں کو گھوڑوں سے اور ان کے آزاد کرنے کو ان کی ایال چھوڑنے سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ تعبیر نہایت بلیغ ہے۔ اس سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہوائیں نہ خودکار ہیں نہ خودمختار بلکہ ان کی پیشانی خدا کی مٹھی میں ہے۔ جب وہ چاہتا ہے ان کو روک لیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے۔ فرمایا ہے:
’مَا مِنْ دَآبَّۃٍ إِلاَّ ہُوَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہَا‘ (ہود ۱۱: ۵۶)
(نہیں ہے کوئی جاندار مگر وہ اس کی پیشانی کے بال کو پکڑے ہوئے ہے)۔