Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 2

  1. فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ﴿2﴾

    1. فَالْعٰصِفٰتِپھر تند وتیز چلنے والی ہواؤں کی قسم
    2. عَصْفًاشدت سے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس وہ اڑاتی ہیں غبار ‘ اندھا دھند
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’عَصْفٌ‘ کے معنی بگٹٹ اور اندھا دھند چلنے کے ہیں۔ فرمایا ہے: ’حَتّٰی إِذَا کُنتُمْ فِی الْفُلْکِ وَجَرَیْْنَ بِہِم بِرِیْحٍ طَیِّبَۃٍ وَفَرِحُوۡا بِہَا جَآءَ تْہَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَجَآءَ ہُمُ الْمَوْجُ مِن کُلِّ مَکَانٍ‘ (یونس ۱۰: ۲۲) (یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو لے کر چلتی ہیں موافق ہوا کے ساتھ اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں دفعۃً نمودار ہو جاتی ہے بادتند اور ان کو گھیر لیتی ہیں موجیں ہر جانب سے)۔ یہ ان ہواؤں کا دوسرا مرحلہ بیان ہوا ہے کہ چھوڑے جانے کے بعد وہ بگٹٹ ہو کر اندھا دھند چلنے لگتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو تند ہو کر بالآخر طوفان اور عذاب بن جاتی ہیں اور قوم کی قوم کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں۔ ان کے عجائب تصرفات کی تاریخ قرآن میں تفصیل سے بیان ہو چکی ہے اور آج بھی ان کی تباہ کاریوں کے تجربات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔