Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 10

  1. وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ﴿10﴾

    1. وَاِذَا الْجِبَالُاور جب پہاڑ
    2. نُسِفَتْاڑتے پھریں
Translation · Tadabbur-e-Quran
پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ‘۔ ’نَسْفٌ‘ کے معنی ریزہ ریزہ کر دینے، پیس دینے، پراگندہ کر دینے کے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ متعدد مقامات میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ’وَانْظُرْ إِلٰٓی إِلٰہِکَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْہِ عَاکِفًا لَّنُحَرِّقَنَّہُ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّہُ فِی الْیَمِّ نَسْفًا‘ (طٰہٰ ۲۰: ۹۷) (اور اپنے اس دیوتا کو، جس پر تو معتکف رہا ہے، دیکھ، ہم اس کو جلائیں گے پھر اس کو ریزی ریزہ کر کے سمندر میں بکھیر دیں گے)۔ خود پہاڑوں سے متعلق، منکرین قیامت کے سوال کا جواب ان الفاظ میں دیا گیا ہے: ’وَیَسْئَلُوۡنَکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنۡسِفُہَا رَبِّیْ نَسْفًا ۵ فَیَذَرُہَا قَاعًا صَفْصَفًا‘ (طٰہٰ ۲۰: ۱۰۵-۱۰۶) (اور وہ تم سے پہاڑوں کی بابت سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو، میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کر دے گا اور زمین کو صفا چٹ چھوڑ دے گا)۔ بعض مقامات میں یہ بات بھی فرمائی گئی ہے کہ قیامت کے دن پہاڑ تودۂ ریگ (کثیب مھیل) اور شراب کے مانند ہو جائیں گے۔ اوپر کی دو آیتوں میں آسمان کا حشر بیان ہوا تھا، اس آیت میں زمین پر جو کچھ گزرے گی اس کی طرف اشارہ ہے۔ زمین کی چیزوں میں، استحکام اور وسعت و عظمت کے اعتبار سے، سب سے زیادہ اونچا درجہ پہاڑوں ہی کا ہے۔ چنانچہ کفار قیامت کا مذاق اڑاتے تو یہ سوال بھی کرتے کہ قیامت آئے گی تو ان پہاڑوں کا کیا بنے گا، کیا ان کو بھی وہ توڑ پھوڑ دے گی! یہاں پہاڑوں کا انجام بیان کر کے گویا اس پوری زمین کا حشر بیان کر دیا کہ جب پہاڑوں پر، جن کو لوگ اٹل خیال کرتے ہیں یہ گزرے گی تو دوسری چیزوں کا جو حال ہو گا اس کے بیان کی ضرورت نہیں ہے۔