تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 11
وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ﴿11﴾
- وَاِذَااور جب
- الرُّسُلُرسول (جمع)
- اُقِّتَتْوقت پر جمع کئے جائیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور رسولوں کے لئے وقت مقرر ہوگا…
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
رسولوں اور ان کی قوموں کے مقدمہ کی روبکاری:
یہ اس اصل ہولناکی کا بیان ہے جس کی تمہید کے طور پر اوپر کی ہولناکیاں بیان ہوئی ہیں یعنی اس دن رسولوں کے لیے وقت مقرر ہو گا۔ ان کے لیے وقت مقرر کرنے سے مقصود ظاہر ہے کہ یہی ہے کہ ایک مقررہ وقت پر وہ دربار الٰہی میں حاضر ہو کر اپنی قوموں کی موجودگی میں یہ بتائیں کہ جس فریضۂ انذار پر وہ مامور کیے گئے تھے وہ انھوں نے انجام دیا یا نہیں؟ اگر انجام دیا تو قوموں نے ان کو کیا جواب دیا؟ قرآن کے دوسرے مقامات میں رسولوں کے اس مقصد کے لیے جمع اور بارگاہ الٰہی میں ان کی قوموں کے رویہ سے متعلق سوال کیے جانے اور ان کے گواہی دینے کا ذکر تفصیل سے ہوا ہے۔ سورۂ مائدہ کی آیت ۱۰۹ ’یَوْمَ یَجْمَعُ اللہُ الرُّسُلَ فَیَقُوۡلُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوۡا لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّکَ أَنۡتَ عَلاَّمُ الْغُیُوۡبِ‘ کے تحت ہم اس کی تفصیل پیش کر چکے ہیں۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے کہ اس دن رسولوں اور ان کی قوموں کے مقدمہ کی روبکاری ہو گی۔ اللہ تعالیٰ رسولوں کی حاضری کے لیے بھی وقت مقرر فرمائے گا اور ان کی قوموں کی حاضری کے لیے بھی سمن جاری ہو گا۔ مزید تفصیل مطلوب ہو تو سورۂ اعراف کی آیت ۶-۷ کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
فیصلہ کے دن کی اہمیت: ’اُقِّتَتْ‘ دراصل ’وُقِّتَتْ‘ کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ عربی زبان میں الفاظ کے اندر اس طرح کا تصرف ہو جایا کرتا ہے۔ ’الرُّسُلُ اُقِّتَتْ‘ کے معنی ہوں گے رسولوں کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا۔ یہ اسی طرح کا اسلوب ہے جس طرح کہتے ہیں ’الغنی خادمًا‘ یعنی ’ابغ لی خادمًا‘۔