تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 20
اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ﴿20﴾
- اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْکیا ہم نے نہیں پیدا کیا تمہیں
- مِّنْسے
- مَّآءٍپانی
- مَّهِيْنٍحقیر
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایک انفسی دلیل:
اوپر کی دلیل آفاقی تھی۔ اسی دعوے پر انسان کی خلقت سے یہ انفسی دلیل پیش کی گئی ہے۔ انسان کی خلقت سے قرآن نے قیامت پر متعدد پہلوؤں سے دلیل قائم کی ہے۔ مثلاً
o مٹی اور پانی کی ایک بوند سے اس کی پیدائش کا حوالہ دے کر امکان بعث اور امکان حشر و نشر کو ثابت کیا ہے۔
o اس کی خلقت کے اندر خدا کی قدرت، حکمت اور صنعت گری کے جو شواہد نمایاں ہیں ان سے جزا اور سزا کے لازم ہونے پر استدلال کیا ہے۔
o انسان کی پرورش کے لیے اس نے جو اہتمام فرمایا ہے اس سے بھی جزا اور سزا کے لزوم پر دلیل قائم کی ہے۔
o انسان کے اندر خیر و شر کے امتیاز کی جو صفت ودیعت فرمائی ہے اس سے ایک روز عدل کے لازمی ہونے پر دلیل پیش کی ہے۔
یہ مطالب یوں تو پورے قرآن میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن دور جانے کی ضرورت نہیں۔ اگر قریب ہی کی دو سورتوں۔۔۔ القیٰمۃ اور الدہر۔۔۔ کے مطالب پر آپ ایک نظر ڈال لیں تو ان تمام نکات کے شواہد آپ کو مل جائیں گے۔
منکریں قیامت کے شبہ کا جواب: ’أَلَمْ نَخْلُقۡکُّم مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیْنٍ ۵ فَجَعَلْنَاہُ فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۵ اِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوۡمٍ‘۔ یہ منکرین قیامت کے اس شبہ کا جواب ہے جو مرکھپ اور سڑ گل جانے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق وہ ظاہر کرتے۔ ان کو براہ راست مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے حقیر پانی کی ایک بوند سے تم کو پیدا کیا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا تو جب تم خود اپنے وجود کے اندر علانیہ مشاہدہ کرتے ہو کہ تمہارے خالق نے حقیر پانی کی ایک بوند کو انسان بنا کے کھڑا کر دیا تو تمہارے مرکھپ جانے کے بعد اگر وہ تمہیں ازسرنو پیدا کرنا چاہے تو یہ کام اس کے لیے کیوں ناممکن یا مشکل ہو جائے گا۔ پہلی بار پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا دوسری بار!
’مَہِیْنٌ‘ کے معنی حقیر و ناچیز کے ہیں۔ اس صفت کے لانے سے مقصود ایک تو یہ دکھانا ہے کہ انسان کی تخلیق کسی ایسے میٹریل سے نہیں ہوئی ہے جو نادر الوجود یا کمیاب ہو کہ اس کو دوبارہ پیدا کرنا ناممکن یا دشوار ہو جائے۔ وہ ایک بے قیمت اور حقیر چیز سے پیدا ہوا ہے جس کا نہایت وافر ذخیرہ قدرت کے پاس موجود ہے۔ دوسرے اس سے خالق کی عظیم و بے نہایت قدرت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جو خدا پانی کی ایک بوند کو انسان بنا دے سکتا ہے اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں ہے۔ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔