تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 25
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ﴿25﴾
- اَلَمْ نَجْعَلِکیا ہم نے نہیں بنایا
- الْاَرْضَزمین کو
- كِفَاتًاسمیٹنے والی
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا ہم نے زمین کو سمیٹ رکھنے والی نہیں بنایا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
پرورش کا اہتمام جزا و سزا کی دلیل ہے:
یہ اسی یوم الفصل پر اس اہتمام ربوبیت سے دلیل قائم فرمائی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی پرورش کے لیے اس دنیا میں کر رکھا ہے۔ یہ دلیل قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے اور ہم ہر جگہ اس کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پرورش کے لیے جو اہتمام فرمایا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے زمین و آسمان کو جس طرح مسخر کر کے اس کی خدمت میں لگا رکھا ہے اس کا لازمی اور بدیہی تقاضا یہ ہے کہ وہ غیر مسؤل اور شتر بے مہار بنا کر نہ چھوڑے رکھا جائے بلکہ ایک ایسا دن بھی آئے جس میں اس سے پرسش ہو کہ اس نے اللہ کی نعمتوں کا حق ادا کیا یا نہیں۔ پھر جس نے ادا کیا ہو وہ انعام پائے اور جس نے ان کو طغیان و فساد کا ذریعہ بنایا ہو وہ اس کفران نعمت کی سزا بھگتے۔
’أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ کِفَاتًا ۵ اَحْیَآءً وَأَمْوَاتًا‘۔ ’کفت‘ کے معنی جمع کرنے اور اکٹھا کرنے کے ہیں۔ عربی میں ’فِعَالٌ‘ کا وزن اس چیز کے لیے بھی آتا ہے جس سے فعل انجام پذیر ہو اس وجہ سے ’کِفَات‘ کے معنی جمع کر لینے والی کے ہوں گے۔ اسی معنی کے اعتبار سے اس میں فاعل کی قوت پیدا ہو گئی ہے اور اس کے بعد مفعول لانا جائز ہوا۔
یہ ربوبیت اور احاطہ کے دو گونہ پہلوؤں سے معاد اور روز جزا و سزا کی دلیل بیان ہوئی ہے۔ ربوبیت سے استدلال زیادہ وضاحت سے آگے والی سورہ میں ہے جو اس کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ فرمایا ہے:
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِہَادًا ۵ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا ۵ وَخَلَقْنَاکُمْ أَزْوَاجًا ۵ وَجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا ۵ وَجَعَلْنَا اللَّیْْلَ لِبَاسًا ۵ وَجَعَلْنَا النَّہَارَ مَعَاشًا ۵ وَبَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعًا شِدَادًا ۵ وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَہَّاجًا ۵ وَأَنۡزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَآءً ثَجَّاجًا ۵ لِنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَنَبَاتًا ۵ وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا ۵ إِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا (النبا ۷۸: ۶-۱۷)
’’کیا ہم نے زمیں کو گہوارہ نہیں بنایا، پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا، اور تم کو جوڑے جوڑے نہیں پیدا کیا، تمہاری نیند کو دافع کلفت نہیں بنایا، رات کو پردہ پوش اور دن کو وقت معاش نہیں بنایا اور تمہارے اوپر سات محکم آسمان نہیں بنائے اور ایک روشن چراغ نہیں بنایا اور بدلیوں سے دھڑ دھڑاتا پانی نہیں برسایا تاکہ اس سے اگائیں غلے اور نباتات اور گھنے باغ؟ بے شک یہ چیزیں شاہد ہیں کہ فیصلہ کا دن مقرر ہے۔‘‘
احاطہ کے پہلو کی طرف اشارہ کرنے کے لیے یہاں ’اَحْیَآء‘ کے ساتھ ’اَمْوَاتًا‘ کا بھی ذکر فرمایا۔ یعنی یہ زمین جس طرح اپنی آغوش میں تمام زندوں کو لیے ہوئے ہے اسی طرح تمام مردوں کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ جو مرتے ہیں وہ اس کے حدود سے کہیں باہر نہیں چلے جاتے بلکہ اسی کے اندر دفن ہوتے ہیں۔ قدرت ان کو اسی زمین کی تحویل میں بطور امانت دے دیتی ہے جس کے گہوارے میں وہ پیدا ہوتے اور پلتے ہیں۔ یہ اہتمام قدرت نے اسی لیے فرمایا ہے کہ جب لوگوں کو جمع کرنے کا وقت آئے تو وہ زمین کو حکم دے کہ جو کچھ اس کی تحویل میں ہے اس کو حاضر کرے اور وہ فوراً اس حکم کی تعمیل کرے گی۔ چنانچہ فرمایا ہے:
’وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ ۵ وَأَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ‘ (الانشقاق ۸۴: ۳-۴)
(اور جب کہ زمین تان دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ اس کو باہر نکال کر فارغ ہو جائے گی)۔
اسی بات کی طرف اشارہ سورۂ زلزال میں ’وَاَخْرَجَتِ الْأَرْضُ اَثْقَالَھَا‘ (۲) کے الفاظ سے فرمایا ہے۔ ان آیات سے اس حقیقت کی طرف رہنمائی ہوتی ہے کہ جو مرتا ہے وہ کہیں ناپید نہیں ہو جاتا ہے بلکہ زمین کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس کو اسی زمین سے، جس سے اس کو پیدا کیا، پھر اٹھا کھڑا کرے گا۔ چنانچہ سورۂ طٰہٰ میں فرمایا ہے:
’مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرٰی‘ (۵۵)
(اسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں ہم پھر تم کو لوٹا دیتے ہیں اور پھر اسی سے تم کو دوسری بار نکالیں گے)۔
ان تمام آیات پر تدبر کی نظر ڈالیے تو ایک اور واضح تر حقیقت بھی سامنے آئے گی کہ انسان اصلاً زمین ہی کے رحم سے پیدا ہوا ہے اور جب وہ مرتا اور دفن ہوتا ہے تو گویا مرتا نہیں بلکہ اسی رحم میں واپس لوٹا دیا جاتا ہے جس سے پیدا ہوا ہے تو جب اس کا پہلی بار پیدا ہونا کسی کے نزدیک کوئی تعجب انگیز بات نہیں ہے تو اس کا دوسری بار پیدا ہونا کیوں تعجب انگیز ہو جب کہ بطن زمین میں اس کا تخم موجود ہے۔