Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 3

  1. وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ﴿3﴾

    1. وَّالنّٰشِرٰتِبادل اٹھا کر لانیوالی ہواؤں کی قسم
    2. نَشْرًاپھیلانے والی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور شاہد ہیں ہوائیں پھیلانے والی (بادلوں کو)۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ابر رحمت والی ہوائیں: ’نَشْرٌ‘ کے معنی پھیلانے، چھینٹنے، ابھارنے، اگانے کے ہیں۔ یہ لفظ ان تمام معانی میں، قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں اس سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو ابر رحمت لاتی ہیں۔ اس لیے کہ ان میں ’نشر‘ کے مختلف پہلو موجود ہیں۔ یہ بادلوں کو ابھارتی ہیں، پھر ان کو فضا میں پھیلاتی ہیں، پھر اپنے رب کی رحمت کو چھینٹتی اور نباتات لگا کر زمین کو سرسبز و شاداب بناتی ہیں۔ فرمایا ہے: ’وَہُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوۡا وَیَنۡشُرُ رَحْمَتَہٗ‘ (الشوریٰ ۴۲: ۲۸) (اور وہی ہے جو نازل کرتا ہے بارش بعد اس کے کہ لوگ اسے مایوس ہو چکے ہوتے ہیں اور پھیلاتا ہے اپنی رحمت)۔ اوپر کی قسم تو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، طوفانی ہواؤں کی ہے اور یہ قسم ابررحمت والی ہواؤں کی ہے جن پر زندگی کے قیام و بقا کا انحصار ہے۔ یہاں زبان کا یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ ’عَاصِفَاتِ‘ کو ’اَلْمُرْسَلَاتِ‘ پر ’ف‘ کے ساتھ عطف کر کے اس کی تدریجی ترقی کو واضح کر دیا۔ اس کے برخلاف اس آیت میں حرف عطف ’و‘ آیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سابق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مستقل وصف ہے۔