Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 30

  1. اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ﴿30﴾

    1. اِنْطَلِقُوْٓاتم چلو
    2. اِلٰى ظِلٍّسایہ کی طرف
    3. ذِيْوالا
    4. ثَلٰثِ شُعَبٍتین شاخیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’اِلٰی مَا کُنتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ‘ کے الفاظ میں جو ہولناک چیز چھپی ہوئی تھی یہ اس سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے۔ فرمایا کہ ان تین شاخوں والے سایہ کی طرف چلو۔ ’ظِلُّ‘ کے معنی تو سایہ کے ہیں لیکن یہاں ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف سایہ نہیں بلکہ دھوئیں کا سایہ ہے۔ سورۂ واقعہ آیات ۴۳-۴۴ میں فرمایا ہے: ’وَظِلٍّ مِّنۡ یَحْمُوۡمٍ ۵ لَّا بَارِدٍ وَلَا کَرِیْمٍ‘ (اور سیاہ دھوئیں کا سایہ، نہ ٹھنڈا نہ نفع بخش)۔ دھوئیں کے اس سائے کی صفت: ’ذِیْ ثَلَاثِ شُعَبٍ‘ آئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دھواں ان کے آگے تمام سمتوں میں پھیلا ہوا ہو گا، صرف وہی سمت اس کی آفت سے محفوظ ہو گی جس سے یہ مکذبین، جیسا کہ لفظ ’اِنْطَلِقُوْا‘ سے واضح ہے ، کھدیڑ دیے جائیں گے جس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کے بعد ان کے لیے دھواں ہی دھواں ہو گا۔ اس ٹکڑے کی تاویل میں بعض اصحاب علم نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ کفر کی بنیادی خصلتیں تین ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ سے غفلت؛ (۲) مخلوق سے بے پروائی؛ (۳) روز جزا کا انکار۔ انہی تین خصلتوں کے مطابق عذاب کی تین شاخیں ان کی طرف بڑھیں گی اور ان کو چھا لیں گی۔ یہ نکتہ لطیف ہے لیکن یہ تینوں خصلتیں باہم دگر لازم و ملزوم بھی ہیں اور یہ تمام کفار میں مشترک بھی نہیں۔ ان کی بنیاد پر کفار کی الگ تھلگ درجہ بندی کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ واضح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ سمتیں بہرحال چار ہی ہوتی ہیں تو جب وہ اس سمت سے نکال دیے جائیں گے جو اس دھوئیں کے عذاب سے محفوظ ہو گی تو تین سمتیں بچ رہتی ہیں اور یہ تینوں اس دھوئیں کے احاطہ میں ہوں گی۔ گویا اس کے بعد وہ ہر طرف سے دھوئیں کے عذاب میں ہوں گے۔