تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 50
فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ۠ع﴿50﴾
- فَبِاَيِّتو کونسی
- حَدِيْثٍۢبات
- بَعْدَهٗاس کے بعد
- يُؤْمِنُوْنَوہ ایمان لائیں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اب اس کے بعد وہ بھلا کس چیز پر ایمان لائیں گے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
منکرین کی ہٹ دھرمی پر ملامت:
یہ ان منکرین کی ہٹ دھرمی پر ملامت اور ان کے ایمان سے مایوسی کا اظہار ہے کہ جب یہ اس انذار پر ایمان نہیں لا رہے ہیں جس کو قرآن اتنے واضح دلائل کے ساتھ سنا رہا ہے تو اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے! مطلب یہ ہے کہ نہ کوئی چیز حسن استدلال میں قرآن سے بڑھ کر ہو سکتی نہ حسن بیان اور قوت تاثیر و تسخیر میں، تو جب یہ ان کی عقلوں اور ان کے دلوں پر اثر انداز نہ ہو سکا تو اس سے بڑھ کر کیا چیز ہو سکتی ہے جو اثر انداز ہو سکے گی؟ یہ نبی ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ ان کا مرض لاعلاج ہے۔ یہ دلیل اور بیان سے سمجھنے والے لوگ نہیں ہیں بلکہ اس وقت مانیں گے جب سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے لیکن اس وقت کا ماننا بے سود ہو گا۔
’بَعْدَہٗ‘ کا مطلب بعض لوگوں نے یہ لیا ہے کہ اس دن کے آ جانے کے بعد یہ لوگ کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ ان کے نزدیک مدّعا یہ ہے کہ اس انذار پر ایمان لانے کا نفع ہے تو آج ہے، جب وہ دن آ جائے گا تو اس دن ایما ن لائے تو کیا، نہ لائے تو کیا، اس وقت تو سب ہی ایمان لائیں گے لیکن اس سے کسی کو کوئی نفع نہیں پہنچے گا۔ اگرچہ اس تاویل کا بھی احتمال ہے لیکن قرآن کے نظائر سے زیادہ واضح تائید اسی تاویل کی نکلتی ہے جو ہم نے اختیار کی ہے۔ دوسرے مقام میں فرمایا ہے:
’فَبِأَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَ اللَّہِ وَآیَاتِہِ یُؤْمِنُونَ‘ (الجاثیہ ۴۵: ۶)
(اور اللہ اور اس کی آیات سے بڑھ کر اور کون سی چیز ہو سکتی ہے جس پر وہ ایمان لائیں گے)۔
احتمال اگرچہ دونوں ہی تاویلوں کی صحت کا ہے اور اصل مدعا میں بھی کچھ زیادہ بُعد نہیں ہے لیکن اس تاویل میں وسعت زیادہ ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم وعلمہ او سع واحکم۔