Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 6

  1. عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ﴿6﴾

    1. عُذْرًاحجت تمام کرنے کو
    2. اَوْیا
    3. نُذْرًاڈرانے کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اتمام حجت کے طور پر یا آگاہ کردینے کو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ مقصد بیان ہوا ہے ان کرشموں کا جو ہواؤں کے تصرفات سے ہر انسان کے مشاہدے میں آتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ کرشمے اللہ تعالیٰ لوگوں پر اتمام حجت یا ان کو بیدار کرنے کے لیے دکھاتا ہے۔ ’اَوْ‘ یہاں تقسیم کے لیے ہے۔ یعنی ان لوگوں پر حجت تمام ہو جاتی ہے جو غفلت کی سرمستی میں پڑے رہنا چاہتے ہیں اور ان لوگوں کو یاددہانی حاصل ہوتی ہے جو یاددہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سورۂ اعراف میں مصلحین کے ایک گروہ کا قول نقل ہوا ہے جس سے اس ’عُذْرٌ‘ اور ’نُذْرٌ‘ کی وضاحت ہوتی ہے: وَإِذَ قَالَتْ أُمَّۃٌ مِّنْہُمْ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوْمًا نِ اللہُ مُہْلِکُہُمْ أَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا قَالُوۡا مَعْذِرَۃً إِلٰی رَبِّکُمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَّقُوۡنَ (الاعراف ۷: ۱۶۴) ’’اور جب کہ ان سے ایک گروہ نے کہا کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے سے کیا فائدہ جن کو اللہ تعالیٰ یا تو ہلاک کر دینے والا ہے یا ایک سخت عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے حضور معذرت کے لیے اور اس لیے بھی کہ شاید وہ ڈریں۔‘‘ یعنی یہ لوگ اگر ہماری نصیحت نہ مانیں گے تو ہم اپنے فرض نصیحت سے سبکدوش ہو جائیں گے، ہم پر کوئی ذمہ داری عند اللہ باقی نہیں رہے گی۔ پھر ذمہ داری ان کی ہو گی اور یہ قیامت کے دن اپنی گمراہی کے لیے کوئی عذر نہ پیش کر سکیں گے اور اگر ہماری بات مان کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے بن گئے تو یہی مقصود ہے۔ یہ چیز ان کے لیے بھی باعث برکت و رحمت ہو گی اور ہمارے لیے بھی۔