تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 7
اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ﴿7﴾
- اِنَّمَابیشک جو
- تُوْعَدُوْنَتمہیں وعدہ دیاجاتا ہے
- لَوَاقِعٌضرور ہونے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک جو وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ شدنی ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قسموں کا مقصود:
یہ مذکورہ قسموں کا مقسم علیہ ہے۔ فرمایا کہ جس بات کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ واقع ہو کے رہے گی۔ ’تُوْعَدُوْنَ‘ یہاں عام ہے، اس میں وعدہ اور ’وعید‘ دونوں شامل ہے لیکن یہ سورہ، جیسا کہ ہم تمہید میں اشارہ کر چکے ہیں، انذار کی ہے اس وجہ سے یہاں وعید کا پہلو غالب ہے۔ یعنی جس عذاب اور قیامت سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ اٹل ہے، اس سے تمہیں سابقہ پیش آ کے رہے گا۔
عذاب اور قیامت پر ہواؤں کے تصرفات کی شہادت گوناگوں پہلوؤں سے پچھلی سورتوں میں بیان ہو چکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو سورۂ ذاریات کی تفسیر پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب اور قیامت کے مکذبین کو ہواؤں کے تصرفات کی طرف توجہ دلا کر متنبہ فرمایا ہے کہ اپنی قوت و سطوت پر زیادہ ناز نہ فرماؤ۔ اللہ عذاب لانا چاہے تو اسے کوئی بڑا اہتمام نہیں کرنا ہے۔ جس ہوا کی لائی ہوئی بارش سے جیتے ہو اسی کے پیچ ذرا ڈھیلے چھوڑ دے تو چشم زدن میں تمہاری ہستی کا نام و نشان ہی مٹ جائے۔ اس دنیا میں کتنی ہی قومیں گزری ہیں جن کو ہوا ہی نے خس و خاشاک کی طرح اڑا دیا۔