Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 8

  1. فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ﴿8﴾

    1. فَاِذَاپس جب
    2. النُّجُوْمُستارے
    3. طُمِسَتْمٹائے جائیں (بےنور ہوجائیں)
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جب کہ ستارے بےنشان کردیئے جائیں گے ‘
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قیامت کی ہلچل کی تصویر: ان آیتوں میں قیامت کی ہلچل کی تصویر ہے کہ اس دن اس کائنات کی وہ چیزیں جو بہت عظیم، بڑی ہی پرشوکت اور بالکل غیر فانی اور لازوال نظر آتی ہیں اور جن کو دیکھ کر تم گمان کرتے ہو کہ بھلا ان کو ان کی جگہ سے کون ہلا سکتا ہے وہ بالکل بے نشان اور بے حقیقت ہو کے رہ جائیں گی۔ ہواؤں کے لائے ہوئے طوفانوں سے بڑے بڑے شہروں، محلوں اور قلعوں کو جس طرح بے نشان ہوتے دیکھا ہے اسی طرح اس دن ایسی ہلچل برپا ہو گی کہ ستارے بے نشان ہو جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور زمین کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ’طمس‘ کے معنی کسی چیز کو مٹا دینے اور بے نشان کر دینے کے ہیں۔ فرمایا ہے: ’مِّنْ قَبْلِ أَنْ نَّطْمِسَ وُجُوۡہًا فَنَرُدَّہَا عَلٰی أَدْبَارِہَا‘ (النساء ۴: ۴۷) (قبل اس کے کہ ہم چہروں کو مٹا دیں اور ان کو ان کے پیچھے پھیر دیں)۔ ’فَإِذَا النُّجُوۡمُ طُمِسَتْ‘ کے معنی ہوں گے، پس جب کہ ستارے بے نور اور بے نشان کر دیے جائیں گے۔ یہی بات دوسرے مقام میں ’وَإِذَا النُّجُوۡمُ انْکَدَرَتْ‘ (التکویر ۸۱: ۲) اور ’وَإِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ‘ (الانفطار ۸۲: ۲) کے الفاظ میں فرمائی گئی ہے۔