Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 78. An-Naba · Ayah 38

  1. یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا﴿38﴾

    1. يَوْمَجس دن
    2. يَقُوْمُ الرُّوْحُقیام کریں گے روح/ روح الامین
    3. وَالْمَلٰٓئِكَةُاور فرشتے
    4. صَفًّا ٷصف در صف
    5. لَّا يَتَكَلَّمُوْنَنہ کلام کرسکیں گے/ نہ بات کرسیں گے
    6. اِلَّامگر
    7. مَنْ اَذِنَجس کو اجازت دے
    8. لَهُاس کے لئے
    9. الرَّحْمٰنُرحمن
    10. وَقَالَ صَوَابًااور وہ کہے درست بات
Translation · Tadabbur-e-Quran
جس دن جبریل اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے کوئی بات نہیں کرے گا مگر جس کو رب رحمن اجازت دے اور وہ بالکل ٹھیک بات کہے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مشرکین کو سب سے زیادہ اعتماد فرشتوں کی سفارش پر تھا جن کو وہ اپنے زعم کے مطابق خدا کی بیٹیاں فرض کر کے پوجتے تھے۔ فرمایا کہ اس دن ان کا حال یہ ہو گا کہ جبریلؑ اور دوسرے ملائکہ رب العزت کے سامنے اس طرح صف بستہ حاضر ہوں گے جس طرح خدام اپنے آقا کے حضور میں حاضر ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی زبان کھولنے میں پہل نہیں کرے گا بلکہ وہی بات کرنے کی جرأت کریں گے جن کو خدائے رحمان کی طرف سے اجازت مرحمت ہو گی اور وہی بات کہیں گے جو بالکل ٹھیک ہو گی۔۔۔ یعنی اگر مشرکین اس خبط میں مبتلا ہیں کہ ان کے دیوی دیوتا خدا سے جو بات چاہیں گے ناز و تدلل سے منوا لیں گے اور ان کے حق میں جو سفارش چاہیں گے کر دیں گے تویہ محض ان کی طمع خام ہے۔ یہاں ’روح‘ سے مراد حضرت جبریلؑ ہیں۔ ان کے لیے قرآن میں یہ لفظ جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ ملائکہ کے گل سرسبد وہی ہیں اس وجہ سے ان کا ذکر سب سے پہلے ہوا تاکہ واضح ہو جائے کہ جب اس دن جبریلؑ کا یہ حال ہو گا تو تابہ دیگراں چہ رسد! بعض لوگوں نے اس کو عام ارواح انسانی کے مفہوم میں لیا ہے لیکن اس کا یہاں کوئی قرینہ نہیں ہے۔