Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 78. An-Naba · Ayah 40

  1. اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ع﴿40﴾

    1. اِنَّآ اَنْذَرْنٰكُمْبیشک ہم نے، خبردار کیا ہم نے تم کو
    2. عَذَابًا قَرِيْبًا ڄقریبی عذاب سے
    3. يَّوْمَ يَنْظُرُجس دن دیکھے گا
    4. الْمَرْءُانسان
    5. مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُجو آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے
    6. وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُاور کہے گا کافر
    7. يٰلَيْتَنِيْاے کاش کہ میں
    8. كُنْتُ تُرٰبًامیں ہوتا مٹی/خاک
Translation · Tadabbur-e-Quran
، ہم نے تم کو ایک قریب آجانے والے عذاب سے آگاہ کردیا ہے، جس آدمی اپنی اس کمائی کو دیکھے گا جو اس نے آگے کے لئے کی ہوگی اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوتا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ آخری تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ ہم نے ایک ایسے عذاب سے آگاہ کر دیا ہے جو بالکل قریب آ چکا ہے۔ یعنی رسول کی بعثت کے بعد قوم کا فیصلہ ہونا تو سنت الٰہی کے مطابق قطعی ہے اور یہ عذاب منکروں کے لیے عذاب قیامت کا پیش خیمہ ہو گا۔ یوں بھی عذاب قیامت کو دور خیال کرنا نادانی ہے۔ اس لیے کہ یہ زندگی چند روزہ ہے اور جو مرا اس کی قیامت اس کے سامنے ہے۔ من مات فقد قامت قیامۃ۔ ’وَیَقُوْلُ الْکَافِرُ یَالَیْتَنِیْ کُنۡتُ تُرَابًا‘۔ یعنی اس دن ہر شخص کے اعمال اس کے سامنے آئیں گے اور جنھوں نے اس دن کے لیے کوئی تیاری نہ کی ہو گی وہ اپنی محرومی اور بدبختی پر اپنے سر پیٹیں گے کہ کاش ہم مٹی ہی رہے ہوتے، ہمارا وجود ہی نہ ہوا ہوتا!!