تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 1
وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ﴿1﴾
- وَالنّٰزِعٰتِقسم ہے ان فرشتوں کی جو کھینچنے والے ہیں
- غَرْقًاغرق ہوکر/ ڈوب کر
Translation · Tadabbur-e-Quran
شاہد میں جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے والی ہوائیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’نَازِعَاتٌ‘ سے مراد:
’نَازِعَاتٌ‘ اور ’نَاشِطَاتٌ‘ کی تاویل میں یوں تو متعدد اقوال منقول ہیں لیکن غالب رائے یہ ہے کہ ان سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کفار کی جانیں سختی سے اور اہل ایمان کی جانیں نہایت نرمی سے نکالتے ہیں۔ اگرچہ اس قول کو شہرت حاصل ہے لیکن اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اس باب میں جو روایات ہیں وہ بالکل تفسیری نوعیت کی ہیں۔ جن کا یہ درجہ نہیں ہے کہ ان کی بنیاد پر کوئی بات اعتماد کے ساتھ کہی جا سکے۔ قرآن میں بھی کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے اس قول کے حق میں کوئی تائید نکلتی ہو۔ اہل کفر اور اہل ایمان کی جانوں کے نکالنے کا معاملہ تمام تر ایک روحانی و باطنی کیفیت سے تعلق رکھنے والا معاملہ ہے، وہ کوئی ایسی عام مشاہدے میں آنے والی چیز نہیں ہے کہ اس کو کسی دعوے پر بطور حجت پیش کیا جا سکے درآنحالیکہ یہ قسمیں یہاں بطور شہادت کھائی گئی ہیں۔ مفسرین کے نزدیک چونکہ ضروری ہے کہ قسم کسی مبارک و مقدس چیز کی ہو اس وجہ سے انھیں ان الفاظ سے فرشتوں کو مراد لینے کا تکلف کرنا پڑا لیکن ہم برابر واضح کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں قسمیں بالعموم کسی دعوے پر بطور شہادت آئی ہیں۔ ان کے اندر نمایاں پہلو دعوے پر دلیل کا ہوتا ہے۔ اس سے کچھ بحث نہیں کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے وہ کوئی مقدس چیز ہے یا غیر مقدس۔
ہمارے نزدیک ’نازعات‘ سے مراد وہ تند ہوائیں ہیں جو درختوں، مکانوں اور گڑی ہوئی چیزوں کو اپنے زور سے اکھاڑ پھینکتی ہیں۔ اس طرح کی ہواؤں کی صفت کے طور پر ’ذاریات‘، ’مرسلات‘ اور ’عاصفات‘ وغیرہ الفاظ بھی قرآن میں استعمال ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ ’ذَرْوًا‘، ’عُرْفًا‘ اور ’عَصْفًا‘ کے الفاظ بطور تاکید آئے ہیں۔ اسی طرح یہاں لفظ ’نازعات‘ ان تند ہواؤں کے لیے استعمال ہوا ہے جو درختوں اور مکانوں کو اکھاڑ پھینکتی ہیں۔ اس کے ساتھ لفظ ’غَرْقًا‘ معنی کی شدت کے اظہار کے لیے بطور تاکید ہے۔
قوم عاد پر اللہ تعالیٰ نے بادتند کا جو عذاب مسلط فرمایا اس کی تصویر سورۂ قمر میں یوں کھینچی گئی ہے:
إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ ۵ تَنْزِعُ النَّاسَ کَأَنَّہُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ (القمر ۵۴: ۱۹-۲۰)
’’ہم نے ان پر ایک طویل نحوست کے زمانے میں باد صرصر مسلط کر دی جو لوگوں کو اس طرح اکھاڑ پھینکتی گویا وہ کھوکھلی کھجوروں کے تنے ہوں۔‘‘
یہاں فعل ’تَنْزِعُ‘ استعمال ہوا ہے اسی سے اس سورہ میں ’نازعات‘ بطور صفت استعمال ہوا ہے۔