تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 17
اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ﴿17﴾
- اِذْهَبْ اِلٰىجاؤ، طرف
- فِرْعَوْنَفرعون کے
- اِنَّهٗ طَغٰىبیشک وہ سرکش ہوگیا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ تم فرعون کے پاس جاؤ، اس نے بہت سراٹھایا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ وہ پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ اس نے بہت سر اٹھایا ہے۔ ’طَغٰی‘ سے مراد یہاں اس کے رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ اور بنی اسرائیلیوں کے ساتھ جبارانہ رویہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خدائی میں کسی کا یہ دعویٰ کہ وہ لوگوں کا رب اعلیٰ ہے سب سے بڑی بغاوت ہے۔ اس بغاوت کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی خاص سند کے ساتھ اس کے پاس بھیجا کہ وہ پہلے اس کو نرمی کے ساتھ راہ راست اختیار کرنے کی دعوت دیں، اگر سمجھ جائے تو فبہا ورنہ اس کے انجام سے اس کو آگاہ کر دیں۔