تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 18
فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ﴿18﴾
- فَقُلْپس کہو
- هَلْ لَّكَکیا تیرے لئے ہے
- اِلٰٓى اَنْطرف اس بات کے کہ
- تَزَكّٰىتو پاکیزگی اختیار کرے
Translation · Tadabbur-e-Quran
، اس سے کہو کہ کیا تم میں کچھ اپنے کو سدھارنے کا جذبہ ہے ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’فَقُلْ ہَل لَّکَ إِلٰی أَنۡ تَزَکّٰی‘۔ یعنی اس سے کہو کہ کیا تم میں کچھ رغبت پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی ہے کہ میں تمہیں اس کا طریقہ بتانے کی کوشش کروں؟ اس فقرے پر غور فرمائیے تو معلوم ہو گا کہ اس میں بیک وقت انتہائی درجے کی ناصحانہ شفقت بھی ہے اور ساتھ ہی وہ عظمت و جلالت بھی جو اللہ تعالیٰ یا اس کے سفیر کے کلام میں ہونی چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تک تمہاری جو روش رہی ہے وہ تو یہی بتاتی ہے کہ تم سے کسی خیر کی توقع نہ رکھی جائے لیکن اللہ تعالیٰ بڑا کریم ہے۔ اب بھی گنجائش ہے کہ اگر تم سلامت روی کی زندگی اختیار کرنے کی رغبت ظاہر کرو تو یہ رستہ تم کو دکھانے کی کوشش کی جائے۔
فرعون کو حصول تزکیہ کی دعوت: لفظ ’تَزَکّٰی‘ یہاں وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی خودسری، انانیت اور ظلم اور جور سے پاک زندگی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے بندے کی ہوتی ہے۔
یہ امر ملحوظ رہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا اصل مقصد لوگوں کے نفوس کا تزکیہ ہی رہا ہے۔ یہ کام انھوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کی آیات کے ذریعہ سے انجام دیا۔ نبی ﷺ سے متعلق ارشاد ہے کہ
’ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّیْنَ رَسُوۡلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوۡا عَلَیْْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیْہِمْ‘ (الجمعۃ ۶۲: ۲)
(وہی ہے جس نے بھیجا امّیوں میں ایک رسول انہی میں سے جو ان کو سناتا ہے اس کی آیات اور ان کو پاکیزہ بناتا ہے)
اپنے اسی مقصد کا اظہار حضرت موسیٰؑ نے فرعون کے سامنے فرمایا کہ اگر تم خدائی کے پندار سے ذرا الگ ہو کر اپنی اصلاح کی طرف مائل ہو تو میں تم کو اللہ کی کچھ باتیں سناؤں۔