تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 2
وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ﴿2﴾
- وَّالنّٰشِطٰتِقسم ہے ان فرشتوں کی جو آسانی سے نکالنے والے ہیں
- نَشْطًانکال لینا
Translation · Tadabbur-e-Quran
، اور شاہد ہیں آہستہ چلنے والی ہوائیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’نَاشِطَاتٌ‘ سے مراد:
’نَاشِطَاتٌ‘ ’نشط‘ کے مادہ سے ہے جس کے معنی کسی کام کو نرمی سے کرنے کے بھی آتے ہیں اور کسی رسی کی گرہ یا کسی جانور کے بندھن کو چرنے چگنے کے لیے چھوڑ دینے کے معنی میں بھی۔ یہاں قرینہ بتا رہا ہے کہ یہ نرم رو اس آہستہ خرام ہواؤں کے لیے آیا ہے جس طرح سورۂ ذاریات میں ’فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔
یہ امر واضح رہے کہ تند اور نرم رو ہواؤں کے عمل کی ظاہری نوعیت اگرچہ الگ تھلگ ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے عجائبات تصرف کی شانیں دونوں کے اندر نمایاں ہیں۔ سورۂ ذاریات میں سیاق کلام اور ہے اس وجہ سے ہوا کی نرم روی کا ذکر بارش کے مقدمہ کے طور پر آیا ہے۔ یہاں اس کا ذکر مستقلاً ہوا ہے اس وجہ سے یہ رحمت اور نقمت دونوں کو محتمل ہے۔ رحمت کے لیے اس کا محتمل ہونا تو بالکل واضح ہے کہ ہوا کی مروجہ جنبانی ہی زندگی اور راحت و نشاط کا ذریعہ ہے لیکن اس کا رحمت یا نقمت بننا کلیۃً اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہتا ہے تو بعض اوقات اس کی نرم رَوی کو بھی عذاب بنا دیتا ہے۔ چنانچہ آگے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی سرگزشت بیان ہوئی ہے جس سے اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے تند پوربی ہوا کے تصرف سے نجات دی اور اسی ہوا کے سکون کو فرعون اور اس کی فوجوں کی تباہی کا ذریعہ بنا دیا۔