Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 23

  1. فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ﴿23﴾

    1. فَحَشَرَپھر اس نے اکٹھا کیا
    2. فَنَادٰىپھر پکارا
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جمع کیا اور اعلان کیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ فرعون کی اس تدبیر کی طرف اشارہ ہے جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لیے سب سے آخر میں اختیار کی ہے۔ سورۂ زخرف سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مصر پر کوئی آفت آتی تو وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کرتا کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ یہ بلا ٹل جائے، اگر ان کی دعا سے یہ بلا ٹل گئی تو وہ ان کا مطالبہ ضرور تسلم کر لے گا لیکن جب وہ بلا ٹل جاتی تو وہ پھر اپنے وعدے سے مکر جاتا۔ اس کی بار بار کی اس روش کا اثر یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سچائی کا اثر خود قبطیوں میں بہت بڑھنے لگا۔ اس سے گھبرا کر فرعون نے قوم کے تمام بااثر افراد کو جمع کیا اور ان کے اندر اپنا اثر بحال کرنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر اس نے جو تقریر کی اسی کی طرف یہاں اجمالی اشارہ ہے۔ اس کی تفصیل سورۂ زخرف میں ہے: وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہِ قَالَ یَا قَوْمِ أَلَیْْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَہَذِہِ الْأَنْہَارُ تَجْرِیْ مِن تَحْتِیْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ۵ أَمْ أَنَا خَیْْرٌ مِّنْ ہَذَا الَّذِیْ ہُوَ مَہِیْنٌ وَلَا یَکَادُ یُبِیْنُ ۵ فَلَوْلَا أُلْقِیَ عَلَیْْہِ أَسْوِرَۃٌ مِّن ذَہَبٍ أَوْ جَاء مَعَہُ الْمَلَاءِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ ۵ فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہُ فَأَطَاعُوہُ إِنَّہُمْ کَانُوا قَوْماً فَاسِقِیْنَ ۵ فَلَمَّا آسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَأَغْرَقْنَاہُمْ أَجْمَعِیْنَ (الزخرف ۴۳: ۵۱-۵۵) ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکارا کہ کیا مصر کی بادشاہی اور یہ نہریں جو میرے نیچے جاری ہیں، میرے لیے نہیں ہیں؟ کیا تم لوگ دیکھ نہیں رہے ہو؟ تو یہ بہتر ہوا یا میں اس سے بہتر ہوں جو ایک حقیر آدمی ہے اور اپنی بات کھل کر کہہ نہیں سکتا؟ (اگر یہ خدا کا رسول ہے) تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس پر سونے کے کنگن اتارے جاتے یا اس کے ساتھ فرشتے پرے باندھ کر آتے؟ ان باتوں سے اس نے اپنی قوم کو بے وقوف بنا لیا اور وہ تھے ہی نافرمان لوگ۔ تو جب انھوں نے ہم کو غصہ دلا دیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا پس ان سب کو غرق کر دیا۔‘‘