Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 30

  1. وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ﴿30﴾

    1. وَالْاَرْضَ بَعْدَاور زمین کو بعد
    2. ذٰلِكَاس کے
    3. دَحٰىهَااس نے بچھا دیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور زمین کو اس کے بعد ہموار کیا ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آسمان کی نشانیوں کے بعد یہ زمین اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی اور مقصود اس سے بھی، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، خدا کی قدرت اور اس کی پروردگاری کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس خدا نے زمین کو ہمارے لیے بچھایا، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا، اس کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے اس کے اندر پہاڑوں کو گاڑا، کیا تم کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا؟ جب اس نے یہ سارے کام کیے اور اس کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو ایک ہی پیدا کی ہوئی مخلوق کو دوبارہ پیدا کر دینا کیوں دشوار ہو جائے گا! ایک سوال اور اس کا جواب: ’وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحَاہَا‘ کے الفاظ سے ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا زمین کی خلقت آسمان کے بعد ہوئی ہے؟ یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ حٰم السجدہ کی آیت ۱۱ میں زمین اور اس کی بعض اہم نشانیوں کی تخلیق کے بعد فرمایا ہے کہ ’ثُمَّ اسْتَوٰٓی إِلَی السَّمَآءِ وَہِیَ دُخَانٌ‘ (پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور وہ اس وقت دھوئیں کی شکل میں تھا) جس سے یہ گمان گزرتا ہے کہ آسمان کی تخلیق زمین کے بعد ہوئی ہے۔۔۔ اس سوال کا جواب ہم حٰم السجدہ کی مذکورہ آیت کے تحت دے چکے ہیں۔ براہ کرم اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہاں اجمالاً صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ قرآن نے آسمان اور زمین کی تعمیر سے متعلق جو تصور دیا ہے وہ ایک مکان کی صورت میں دیا ہے جس میں آسمان کی حیثیت چھت کی اور زمین کی حیثیت فرش کی ہے۔ کسی مکان کا نقشہ جب بنایا جاتا ہے تو اس میں چھت اور فرش دونوں بیک وقت مدنظر ہوتے ہیں اور دونوں کا خاکہ ایک ہی ساتھ تیار کر لیا جاتا ہے لیکن تعمیر کے مختلف مراحل میں کبھی فرش اور اس کے متعلقات پر کام ہوتا ہے اور کبھی چھت اور اس کے اطراف پر۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے آسمان پیدا ہوا یا زمین۔ سورۂ حٰم السجدہ میں اگرچہ باوّلِ وہلہ ذہن اس طرف جاتا ہے کہ پہلے زمین کی تخلیق ہوئی لیکن ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جب خالق نے آسمان کی تعمیر کا قصد فرمایا تو وہ دھوئیں (یا سائنس دانوں کی اصطلاح میں سحابیے) کی شکل میں موجود تھا۔ اسی طرح یہاں زیربحث آیت میں اگرچہ متبادر یہی ہوتا ہے کہ آسمان پہلے وجود میں آیا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ ایک خاص مرحلۂ تعمیر کی بات ہو جس کے بعد زمین کی تعمیر کا آخری مرحلہ (یعنی اس کا بچھایا جانا) عمل میں آیا ہو۔ اس عظیم اور ناپیداکنار کائنات کی تعمیر کا معاملہ ایسا نہیں ہے جو ہماری محدود عقل کی گرفت میں آ سکے۔ اس کے تمام مراحل کا احاطہ اللہ تعالیٰ کا محیط کل علم ہی کر سکتا ہے۔