تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 4
فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ﴿4﴾
- فَالسّٰبِقٰتِپھر آگے بڑھنے والوں کی/ سبقت کرنے والوں کی
- سَبْقًاسبقت کرنا/ آگے بڑھنا
Translation · Tadabbur-e-Quran
پھر ایک دوسرے پر سبقت کرنے والے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ’فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا ۵ فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا‘ کے الفاظ میں بادنیٰ تغیر الفاظ وہی بات فرمائی گئی ہے جو سورۂ ذاریات میں ’فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا ۵ فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ میں اور سورۂ مرسلات میں ’فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا ۵ فَالْمُلْقِیَاتِ ذِکْرًا‘ کے لفظوں میں فرمائی گئی ہے۔ مذکورہ سورتوں کی تفسیر میں یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ یہ بادلوں سے لدی ہوئی ان ہواؤں کی صفت ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس سرزمین کی طرف چلتی ہیں جس کے لیے حکم ہوتا ہے اور پھر وہاں وہ امر الٰہی کی تقسیم کرتی ہیں یعنی جن کے لیے حکم ہوتا ہے اس کی تعمیل کرتی ہیں۔ کسی علاقے پر وہ رحمت بن کر برستی ہیں اور کسی کے لیے عذاب بن جاتی ہیں۔ کسی جگہ جل تھل کر دیتی ہیں اور کسی جگہ خشک یا تشنہ چھوڑ جاتی ہیں۔ گویا جو بات سورۂ ذاریات میں ’فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ سے فرمائی گئی ہے وہی بات یہاں ’فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا‘ کے الفاظ میں ارشاد ہوئی ہے۔
اس سے پہلے ’فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا‘ کے الفاظ بادلوں کی اس بھاگ دوڑ کی تصویر پیش کر رہے ہیں جو فضا میں اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب ان کے مختلف دستے ایک دوسرے پر سبقت کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ سب اپنے غیبی حاکم کے حکم کی تعمیل میں سرگرم تگاپو ہیں اور ہر ایک اس بات کا آرزومند ہے کہ امتثال امر میں اول نمبر اسی کا رہے۔
مقسم علیہ محذوف ہے: ان قسموں کا مقسم علیہ یہاں لفظوں میں مذکور نہیں ہے بلکہ محذوف ہے۔ مقسم علیہ کے محذوف ہونے کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ سورۂ صٓ، سورۂ قٓ اور سورۂ قیامہ سب میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ مقسم علیہ حذف کر دیا گیا ہے۔ جہاں ذکر کی کوئی خاص ضرورت نہ ہو وہاں حذف ہی اولیٰ ہوتا ہے۔ یہاں چونکہ قیامت کی ہلچل کا ذکر آگے تفصیل سے موجود ہے، جو مقسم علیہ کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے، اس وجہ سے اس کے ذکر کی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ اس محذوف کو کھولنا چاہیں تو سورۂ مرسلات کی روشنی میں ’إِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ‘ کے الفاظ یہاں محذوف مان سکتے ہیں۔ گویا تند اور نرم ہواؤں اور بادلوں کے عجائب تصرفات کو شہادت میں پیش کر کے قریش کے متمردین کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ تمہیں جس عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے اس کو بعید از امکان نہ سمجھو۔ اللہ تعالیٰ جب اس کو لانا چاہے گا تو اس کے لیے کوئی خاص اہتمام اس کو نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کی ہواؤں اور اس کے بادلوں کے تصرفات کی جو تاریخ موجود ہے اور جو تمہیں سنائی بھی جا چکی ہے اگر اسی سے سبق حاصل کرو تو وہی تمہارے لیے کافی ہے۔ تم سے کہیں زیادہ طاقت ور قومیں اس زمین پر بسی ہیں جن کو خدا نے اپنی ہواؤں ہی کے ذریعہ سے خس و خاشاک کی طرح اڑا دیا۔