تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 6
یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ﴿6﴾
- يَوْمَجس دن
- تَرْجُفُکانپے گی
- الرَّاجِفَةُکانپنے والی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس دن سے ڈرو جس دن کپکپی پڑے گی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ مقسم علیہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے گمان کیا ہے، بلکہ اس دن کی یاددہانی ہے جس دن اس عذاب سے سابقہ پیش آئے گا جس سے ان کو ڈرایا جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک اس عذاب سے جس سے قیامت کے دن دوچار ہونا پڑے گا۔ دوسرے اس عذاب سے جس سے اسی دنیا میں قوم کو سابقہ پیش آتا ہے اگر وہ اپنے رسول کی تکذیب کر دیتی ہے۔
قیامت کے دن کی یاددہانی: پہلے آیات ۶-۱۴ میں عذاب قیامت کی تصویر ہے اس کے بعد آیات ۱۶-۱۷ میں اس عذاب کی تاریخی شہادت پیش کی گئی ہے جو تکذیب رسول کے نتیجہ میں اس دنیا میں پیش آتا ہے۔ عذاب قیامت کا ذکر یہاں اس لیے مقدم کر دیا ہے کہ اصل عذاب وہی ہے جس سے ہر ایک کو ہوشیار رہنا چاہیے۔ وہ دائمی اور ابدی ہے۔ اس کے ہوتے دنیا کا عذاب نہ بھی ہو جب بھی کسی کے لیے کوئی اطمینان کا پہلو نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید اہتمام ہے کہ وہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں پر اس دنیا میں بھی عذاب نازل کرتا ہے۔
یہاں ’یوم‘ سے پہلے فعل محذوف ہے۔ یعنی اس دن کو یاد رکھو یا اس کے ہم معنی کوئی فعل۔
’رَاجِفَۃٌ‘ کے معنی کپکپی اور زلزلہ کے ہیں اور ’رَادِفَۃٌ‘ کے معنی پہلے جھٹکے کے بعد دوسرے جھٹکے کے۔ قیامت کی ہلچل، جیسا کہ دوسرے مقامات میں وضاحت ہو چکی ہے، صور کی دو پھونکوں میں مکمل ہو گی۔ یہاں انہی دونوں پھونکوں کے اثرات کی طرف اشارہ ہے۔ مقصود اس سے مکذبین قیامت پر اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قیامت کے ظہور کو بہت مستبعد اور ناممکن نہ سمجھو۔ بس دو جھٹکوں میں یہ سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔