Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 13

  1. ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿13﴾

    1. ذٰلِكَیہ اس لیے
    2. بِاَنَّهُمْکہ وہ
    3. شَآقُّوامخالف ہوئے
    4. اللّٰهَاللہ
    5. وَرَسُوْلَهٗاور اس کا رسول
    6. وَاور
    7. مَنْجو
    8. يُّشَاقِقِمخالف ہوگا
    9. اللّٰهَاللہ
    10. وَرَسُوْلَهٗاور اس کا رسول
    11. فَاِنَّتو بیشک
    12. اللّٰهَاللہ
    13. شَدِيْدُسخت
    14. الْعِقَابِعذاب (مار)
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ اس سبب سے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ کو اٹھے ہیں اور جو اللہ و رسول کے مقابلہ کو اٹھتے ہیں تو اللہ ان کے لیے سخت پاداش والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاۗقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۚ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔ یہ وجہ بیان ہوئی اس بات کی کہ کیوں خدا ان کے دلوں میں رعب ڈال دے گا اور کیوں یہ مسلمانوں کے ہاتھوں گاجر مولی کی طرح کاٹے جائیں گے ؟ فرمایا کہ اس لیے کہ یہ اللہ و رسول کے مقابلہ کے لیے اٹھے ہیں اور جو لوگ اللہ و رسول سے مقابلہ کے لیے اٹھتے ہیں اللہ ان کو شدید پاداش سے دوچار کرتا ہے۔ انسانی فطرت کے اندر خدا اور خدا کے رسول سے لڑنے کے لیے کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ لڑائی کا جواز وہاں ہوتا ہے کہ خدا کے مقابل میں کسی حق کا سوال پیدا نہیں ہوتا اس وجہ سے اس قسم کی جہالت کے لیے جو لوگ اٹھتے ہیں وہ اٹھیں چاہے طوفان کی طرح لیکن مقابلہ پیش آجائے تو بیٹھ جاتے ہیں بلبلے کی طرح، اس لیے کہ ان کے حوصلہ کی بنیاد کسی حق پر نہیں ہوتی۔