تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 37
لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ع﴿37﴾
- لِيَمِيْزَتاکہ جدا کردے
- اللّٰهُاللہ
- الْخَبِيْثَگندا
- مِنَسے
- الطَّيِّبِپاک
- وَيَجْعَلَاور رکھے
- الْخَبِيْثَگندا
- بَعْضَهٗاس کے ایک
- عَلٰيپر
- بَعْضٍدوسرے
- فَيَرْكُمَهٗپھر ڈھیر کردے
- جَمِيْعًاسب
- فَيَجْعَلَهٗپھر ڈال دے اس کو
- فِيْمیں
- جَهَنَّمَجہنم
- اُولٰٓئِكَیہی لوگ
- هُمُوہ
- الْخٰسِرُوْنَخسارہ پانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تاکہ اللہ خبیث کو طیب سے چھانٹ کر الگ کرے اور خبیث کو ایک دوسرے پر ڈھیر کرے، پھر اس کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ نامراد ہونے والے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لِيَمِيْزَ اللّٰهُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ الایہ، یہ اس فرقان کا بیان ہے جو آخرت میں ظاہر ہوگا۔ وہاں اللہ تعالیٰ سارے خبیث کو طیب سے بالکل الگ کردے گا۔ پھر خبیث کو ایک دوسرے پر تہ بہ تہ ڈھیر کردے گا۔ پھر اس پورے ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے گا ، ‘ رکم ’ کے معنی کسی شے کو ایک دوسرے پر تہ بہ تہ ڈھیر کرنے کے ہیں۔ کوڑے کرکٹ کو جلانا ہو تو اسکے لیے طریقہ یہی اختیار کیا جاتا ہے۔ سب کو جمع کر کے تہ بہ تہ ڈھیر کیا جاتا ہے پھر اس کو آگ دکھا دی جاتی ہے۔ تہ بہ تہ جمع کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آگ زیادہ مقدار میں ایندھن پا کر پورے زور سے بھرکتی ہے اور جمع شدہ انبار کا ہر حصہ دوسرے حصہ کو جلانے میں مددگار بن جاتا ہے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل کفر جس طرح اس دنیا میں تائید کفر میں ایک دوسرے کے پشت پناہ ہیں، اسی طرح جہنم میں ایک دوسرے کو جلانے کے لیے باہمدگر ایندھن کا کام دیں گے۔
اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۔ فرمایا کہ اصلی نامراد یہی ہیں۔ اس لیے کہ دنیا میں ان کا انجام یہ ہوگا کہ یہ اپنے مال برباد کریں گے، کف افسوس ملیں گے۔ ذلت کے ساتھ شکست کھائیں گے اور آخرت میں یہ ہوگا کہ کوڑے کرکٹ کے انبار کی طرح اکٹھا کر کے جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ خسر الدنیا والآخرۃ۔