تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 54
كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ﴿54﴾
- كَدَاْبِجیسا کہ دستور
- اٰلِ فِرْعَوْنَفرعون والے
- وَاور
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- مِنْ قَبْلِهِمْان سے پہلے
- كَذَّبُوْاانہوں نے جھٹلایا
- بِاٰيٰتِآیتوں کو
- رَبِّهِمْاپنا رب
- فَاَهْلَكْنٰهُمْتو ہم نے انہیں ہلاک کردیا
- بِذُنُوْبِهِمْان کے گناہوں کے سبب
- وَاَغْرَقْنَآاور ہم نے غرق کردیا
- اٰلَ فِرْعَوْنَفرعون والے
- وَكُلٌّاور سب
- كَانُوْاتھے
- ظٰلِمِيْنَظالم
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان کے سامنے وہی معاملہ ہے جو آل فرعون اور ان لوگوں کو پیش آیا جو ان سے پہلے گزرے، انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کی تکذیب کردی تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کردیا اور آل فرعون کو غرق کردیا اور یہ سارے کے سارے ظالم تھے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ۔ یہ وہ انجام بیان ہو رہا ہے جو آگے قریش کا ہوگا۔ اگر انہوں نے ان تنبیہات سے سبق حاصل نہ کیا جو ان کو کی جا رہی ہیں۔ یعنی پھر وہ تنبیہات کے بجائے خدا کے فیصلہ کن عذاب کی زد میں آجائیں گے۔ ان دونوں آیتوں میں الفاظ اور لہجہ کا جو فرق ہے اس کو نگاہ میں رکھیے۔ اوپر والی آیت میں فرمایا ہے کفروا بایات اللہ اس میں ہے کذبوا بایات ربہم اوپر ہے۔ فاخذھم اللہ بذنوبہم، یہاں ہے، فاھلکناہم بذنوبہم واغرقنا ال فرعون۔ اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر دونوں آیتوں کا موقع و محل واضح نہیں ہوگا۔