Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 58

  1. وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ع﴿58﴾

    1. وَاِمَّااور اگر
    2. تَخَافَنَّتمہیں خوف ہو
    3. مِنْسے
    4. قَوْمٍکسی قوم
    5. خِيَانَةًخیانت (دغا بازی)
    6. فَانْۢبِذْتو پھینک دو
    7. اِلَيْهِمْان کی طرف
    8. عَلٰيپر
    9. سَوَآءٍبرابری
    10. اِنَّبیشک
    11. اللّٰهَاللہ
    12. لَا يُحِبُّپسند نہیں کرتا
    13. الْخَآئِنِيْنَدغا باز (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر تمہیں کسی قوم سے بد عہدی کا خطرہ ہو تو تم بھی اسی طرح ان کا عہد ان پر پھینک مارو۔ اللہ بد عہدوں کو پسند نہیں کرتا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ۔ یہ مذکورہ قسم کے تمام معاہدوں سے متعلق عام ہدایت دے دی کہ ان کی ذمہ داری تم پر یک طرفہ نہیں ہے صرف اسی صورت میں ہے جب دوسرا فریق بھی ان کا احترام کرے۔ اگر وہ احترام نہیں کرتا تو تم بھی اس معاہدہ کو ان کے منہ پر پھینک مارو۔ علی سواء کا مفہوم یہ ہے کہ انہی کے برابر کا اقدام تم بھی کرنے کے مجاز ہو۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دینا چاہیے بلکہ جواب ہم وزن ہونا چاہیے۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ لازم قرار دیا ہے کہ ختم معاہدہ کی اطلاع فریق ثانی کو دے دینی چاہیے۔ ان کی اس بات کو کوئی دلیل ان الفاظ میں مجھے نظر نہیں آتی۔ البتہ یہ بات مستنبط ہوتی ہے کہ محض فرضی اندیشہ کسی معاہدے کو کالعدم قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ عملاً اس کی خلاف ورزی کا اظہار ہوا ہو۔ اول تو یہاں تخافن کا جو فعل استعمال ہوا ہے اس میں خود تاکید ہے۔ دوسرے علی سواء کی قید بھی ان کو نمایا کر رہی ہے۔ rnۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ۔ یہ اظہار براءت کا کلمہ ہے۔ یعنی اللہ کا ایسے بد عہدوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور جب اللہ کا ان سے کوئی تعلق نہیں تو اہل ایمان کوئی تعلق ایسے لوگوں سے کیسے رکھ سکتے ہیں۔ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اہل ایمان ان سے نبا ہیں تو گویا وہ ان سے نبا ہیں گے جن سے خدا کو نفرت ہے۔