Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 65

  1. یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ﴿65﴾

    1. يٰٓاَيُّھَااے
    2. النَّبِيُّنبی
    3. حَرِّضِترغیب دو
    4. الْمُؤْمِنِيْنَمومن (جمع)
    5. عَلَيپر
    6. الْقِتَالِجہاد
    7. اِنْاگر
    8. يَّكُنْہوں
    9. مِّنْكُمْتم میں سے
    10. عِشْرُوْنَبیس
    11. صٰبِرُوْنَصبر والے
    12. يَغْلِبُوْاغالب آئیں گے
    13. مِائَتَيْنِدو سو
    14. وَاِنْاور اگر
    15. يَّكُنْہوں
    16. مِّنْكُمْتم میں سے
    17. مِّائَةٌایک سو
    18. يَّغْلِبُوْٓاوہ غالب آئیں گے
    19. اَلْفًاایک ہزار
    20. مِّنَسے
    21. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاوہ لوگ جنہوں نے کفر کیا (کافر)
    22. بِاَنَّهُمْاس لیے کہ وہ
    23. قَوْمٌلوگ
    24. لَّا يَفْقَهُوْنَسمجھ نہیں رکھتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے نبی مومنین کو جہاد پر ابھارو۔ اگر تمہارے بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تمہارے سو ہوں گے تو ہزار کافروں پر بھاری ہوں گے یہ اس وجہ سے کہ یہ لوگ بصیرت سے محروم ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَي الْقِتَالِ ۭاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ۔ مسلمانوں اور کافروں کی قوت کا تناسب : یہ اسی اوپر والے مضمون کی وضاحت ہے کہ ہرچند تمہارے ساتھیوں کی تعداد باعتبار کمیت تھوڑی ہے لیکن باعتبار کیفیت بہت ہے۔ تمہارے بیس ثابت قدم مسلمان، کفار کے دو سو آدمیوں پر اور تمہارے سو آدمی ان کے ہزار آدمیوں پر بھاری ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے ساتھیوں کو اللہ نے بصیرت ایمانی سے نوازا ہے اور تمہارے حریف اس بصیرت سے محروم ہیں۔ مسلمان کی اصل قوت : لایفقہون میں فقہ سے مراد بصیرت ایمانی ہے۔ یہی بصیرت انسان کا اصل جوہر ہے۔ اس بصیرت کے ساتھ جب مومن میدان جنگ میں نکلتا ہے تو وہ اپنے تنہا وجود کے اندر ایک لشکر کی قوت محسوس کرتا ہے، اس کو اپنے دہنے بائیں خدا کی نصرت نظر آتی ہے، موت اس کو زندگی سے زیادہ عزیز و محبوب ہوجاتی ہے اس لیے کہ اس کی بصیرت اس کے سامنے اس منزل کو روشن کر کے دکھا دیت ہے جو اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہی بصیرت اس کے اندر وہ صبر و ثبات پیدا کرتی ہے جو اس کو تنہا اس بصیرت سے محروم دس آدمیوں پر بھاری کردیتی ہے۔