تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 71
وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿71﴾
- وَاِنْاور اگر
- يُّرِيْدُوْاوہ ارادہ کریں گے
- خِيَانَتَكَآپ سے خیانت کا
- فَقَدْ خَانُواتو انہوں نے خیانت کی
- اللّٰهَاللہ
- مِنْ قَبْلُاس سے قبل
- فَاَمْكَنَتو قبضہ میں دیدیا
- مِنْهُمْان سے (انہیں)
- وَاللّٰهُاور اللہ
- عَلِيْمٌجاننے والا
- حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر یہ تم سے بدعہدی کریں گے تو اس سے پہلے انہوں نے خدا سے بدعہدی کی تو خدا نے تم کو ان پر قابو دے دیا اور اللہ علیم و حکیم ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی اور بدر کے قیدیوں کو دھمکی ہے۔ پیغمبر کو خطاب کر کے فرمایا کہ اگر انہوں نے بےوفائی کی اور تم نے ان پر جو احسان کیا ہے اس کی قدر نہ پہچانی، پھر لڑنے کے لیے آئے تو یہ تمہارا کچھ نہیں بگاریں گے، اپنی ہی شامت بلائیں گے اس سے پہلے انہوں نے خدا سے بےوفائی و بدعہدی کی تو اس کا مزا انہوں نے چکھا کہ خدا نے ان کو تمہارے ہاتھ میں دے دیا۔ اگر یہی حرکت انہوں نے پھر کی تو خدا پھر انہیں قابو میں دے دے گا اور یہ اپنی اس بدعہدی کی سزا بھگتیں گے۔ یہاں جس بدعہدی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے حرم کا پاسبان بنایا اور ان کو ملت ابراہیم کی وراثت سپرد کی تو انہوں نے حرم کی حرمت برباد کی اور ملت ابراہیم کو مسخ کیا جس کے نتائج ان کے آگے آ رہے ہیں۔ اگر اپنے اس جرم پر یہ کچھ اور اضافے کرنا چاہتے ہیں تو یہ شوق بھی کرلیں، اس کے پھل بھی یہ چکھیں گے۔
ان دونوں آیتوں (آیت 70-71) پر غور کیجیے تو یہ بات واضح ہوگی کہ آنحضرت ﷺ نے بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر جو چھوڑ دیا تو نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ اس نے اس کو پسند فرمایا اور ان قیدیوں کو یہ پیغام بھجوایا کہ یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے اس احسان کی قدر کی تو اس سے ان کے لیے قبول اسلام اور مغفرت کی راہیں کھلیں گی۔ غور کیجیے کہ کہاں یہ بات اور کہاں وہ جو محض بعض تفسیری روایات کی بنا پر مفسرین نے اختیار فرمائی کہ آنحضرت ﷺ پر اس بات کے لیے عتاب ہوا کہ اچھی طرح خون بہائے بغیر تم نے قیدی کیوں کڑے اور فدیہ کیوں قبول کیا۔