Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 11

  1. كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ﴿11﴾

    1. كَلَّآہرگز نہیں
    2. اِنَّهَابیشک وہ
    3. تَذْكِرَةٌایک نصیحت ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہرگز نہیں، یہ تو ایک یاددہانی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
پیغمبر کی اصل ذمہ داری: ’کَلَّا‘ یعنی اس طرح کے ناقدروں سے اس طرح چمٹنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ قرآن بس ایک یاد دہانی ہے۔ جس کا جی چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور جس کا جی نہ چاہے وہ اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہے جس سے یہ لوگوں کو آگاہ کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر پر ذمہ داری لوگوں تک اس یاددہانی کو پہنچا دینے کی ہے۔ یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں اس کو اتار بھی دے۔ اس پر ذمہ داری انذار کی ہے نہ کہ ایک ایک کی نازبرداری کی! ’اِنَّھَا‘ میں ضمیر کا مرجع ’ذِکْرٰی‘ ہے جو آیت ۴ میں ہے۔ اور ’ذَکَرَہ‘ میں بھی مرجع وہی ہے لیکن یہاں لحاظ معنی کا ہے اس وجہ سے ضمیر مذکر آئی۔ چونکہ ’ذِکْرٰی‘ اور ’تَذْکِرَۃٌ‘ دونوں سے مراد قرآن ہی ہے اس وجہ سے یہاں ضمیر مذکر لا کر ان کے اصل مفہوم پر روشنی ڈال دی۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس سے وہ حقیقت واضح ہو گئی جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ یہاں اگر حضور پر کوئی عتاب ہے بھی تو اس کی نوعیت عتاب محبت کی ہے کہ آپ نے اپنے اوپر وہ بوجھ کیوں اٹھا لیا ہے جو آپ کے رب نے آپ پر نہیں ڈالا۔